‘عراق نے امریکی افواج کی بے دخلی کا کہا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی’

مزید خبریں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبر دار کیا ہے کہ اگر امریکی فوجیوں کو ملک سے نکلنے کا کہا گیا تو بغداد پر ایسی پابندیاں عائد کی جائیں گی جس کا اس نے پہلے کبھی سامنا نہ کیا ہو گا۔

عراقی پارلیمنٹ نے اتوار کو ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں غیر ملکی افواج سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک سے نکل جائیں۔

یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکہ نے جمعے کو بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب فضائی حملے میں ایران کے اہم فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا تھا۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے خلاف عراق میں امریکی مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

فلوریڈا میں تعطیلات گزارنے کے بعد واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی فوجیوں کو عراق کی سرزمین چھوڑنے کی ضرورت پیش آئی تو عراقی حکومت کو وہاں موجود ایئر بیس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عراق نے غیر دوستانہ بنیاد پر امریکہ کو ملک چھوڑنے کا کہا تو ہم ان پر ایسی پابندیاں عائد کریں گے جو پہلے کبھی نہیں کی گئی تھیں۔

ان کے بقول، عراق پر عائد کی جانے والی پابندیاں اسی طرز کی ہوں گی جس کا سامنا ایران کو کرنا پڑا تھا۔

یاد رہے کہ عراق میں امریکی ایئر بیس موجود ہے جب کہ پانچ ہزار فوجی عراق کی فورسز کو تربیت دینے کے لیے وہاں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ عراقی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرارداد کی قانونی حیثیت اور اس کے اثرات کا انتظار کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ عراقی رہنماؤں کو دونوں ملکوں کی اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم عادل عبدالمہدی کا اتوار کو کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی مشکلات کے باوجود امریکہ اور اتحادی فورسز کو مدد کی درخواست منسوخ کرنا ہی عراق کے مفاد میں ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود 2014 سے 2017 کے درمیان ایران نواز ملیشیا اور امریکی افواج نے ایک ساتھ مل کر عراق سے جنگجو تنظیم ‘داعش’ کا خاتمہ کیا تھا۔ تاہم جمعے کو امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کے ہمراہ ایران نواز ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المھندس بھی مارے گئے تھے۔

Loading...

Comments are closed.