کیا دیر کرنے والے لوگ کامیاب ثابت ہوتے ہیں؟

دیر کرنے والوں میں کچھ خصوصیات ایسی ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور کامیاب بناتی ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مزید خبریں

 کراچی: کچھ لوگ وقت کے پابند ہوتے ہیں تو کچھ کا معاملہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں‘‘ والا رہتا ہے۔ نہ تو وہ اپنا کوئی کام وقت پر کرتے ہیں اور نہ ہی وقت پر ملازمت کی جگہ پہنچنے کے عادی ہوتے ہیں۔

اپنی اسی عادت کی وجہ سے وہ دوسروں کے لیے دردِ سر بننے کے ساتھ ساتھ اپنے سینئرز سے بھی ڈانٹ کھاتے رہتے ہیں لیکن جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمیشہ دیر کرنے والے لوگ کامیاب بھی رہتے ہیں۔

نفسیاتی تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو وقت کے پابند ہوتے ہیں وہ زیادہ پرجوش، اپنے آپ پر تنقیدی نظر رکھنے والے، مسابقت کا جذبہ رکھنے والے اور وقت کے معاملے میں حساس بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بالعموم کامیاب رہتے ہیں لیکن دیر کرنے والے لوگ، ان سے بھی زیادہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔

وہ کیوں؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر کرنے والے لوگ بڑی آسانی سے گھل مل جاتے ہیں جبکہ اپنے مزاج میں وہ بہت تحمل بھی رکھتے ہیں مگر ان میں کچھ اور خصوصیات بھی ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب بناتی ہیں۔

ان کے تخیل کی پرواز بلند ہوتی ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کے معاملے میں بھی وہ اپنے ساتھیوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ یہ صلاحیت انہیں ایسی ملازمتوں یا کاموں کے لیے موزوں ترین بناتی ہے جہاں ہر وقت کچھ نیا کرنے کے مواقع ہوں، شاید اس لیے بھی کیونکہ یہ لوگ ایک مخصوص سوچ اور طریقے کو چھوڑ کر ’’کچھ الگ‘‘ کرنے سے نہیں گھبراتے۔ دیر کرنے والوں اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والوں میں یہ بات قدرِ مشترک ہے۔

دیر کرنے والے لوگ ہمیشہ پُرامید رہتے ہیں، یعنی وہ بہت کم ہی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ خاصیت بھی انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے اور وہ بار بار ناکام ہو جانے کے باوجود بھی اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ ’’لیٹ لطیف‘‘ قسم کے لوگ ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔ اپنی اسی صلاحیت کی وجہ سے وہ اکثر وقت گزرنے کا احساس نہیں کر پاتے اور دیر کردیتے ہیں۔ البتہ، ان کی مجموعی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت دوسروں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوتی ہے۔

کیونکہ وہ وقت کی کچھ خاص پروا نہیں کرتے، اس لیے وہ مشکل ترین حالات میں بھی دوسروں کی نسبت پرسکون اور مطمئن رہتے ہیں۔ یعنی انہیں اپنے اعصاب پر زیادہ کنٹرول ہوتا ہے۔ ایک ایسا دفتر جہاں ہر طرف افراتفری مچی ہو، وہاں سکون و اطمینان سے کام کرنے والا فرد عام طور پر وہی ہوتا ہے جو اکثر دیر سے آتا ہے۔ بوکھلاہٹ کا شکار نہ ہوتے ہوئے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنا کام کہیں بہتر طور پر انجام دیتے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں دیر کرنے والوں کی ایک اور اہم خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ’’کمال پسند‘‘ (پرفیکشنسٹ) ہوتے ہیں۔ یعنی وہ ہر کام کو انتہائی خوبی اور نفاست کے ساتھ انجام دینا چاہتے ہیں چاہے وہ کپڑے استری کرنے کا عمل ہو یا کوئی بڑی عمارت ڈیزائن کرنے کا مرحلہ۔

غرض وہ جس شعبے میں بھی ہوتے ہیں، وہاں رہتے ہوئے ’’خوب سے خوب تر کی جستجو‘‘ کی عملی تعبیر سمجھے جاتے ہیں۔ وقت کی پابندی نہ کرنے کے باعث ان کے کام میں تاخیر ضرور ہوجاتی ہے لیکن جب وہ کام پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو لوگ اس کی داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیر کرنے والے لوگ اپنے ہم عصروں کی نسبت زیادہ ترقی پاتے ہیں۔

Loading...
1 Comment
  1. domain

    domain

    کیا دیر کرنے والے لوگ کامیاب ثابت ہوتے ہیں؟ – Urdu Khabrain

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.