معاشی اہداف حاصل ہونے کا امکان نہیں، سہ ماہی اقتصادی جائزہ رپوٹ

مزید خبریں

پاکستان کے مرکزی بینک نے معیشت کی صورت حال پر مالی سال کی پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضوں سے معاشی استحکام میں بہتری کے باوجود قومی ترقی کی رفتار 4 فیصد کا ہدف حاصل ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ سال سے دگنی ہو چکی ہے، جب کہ بڑے پیمانے پر اشیاء سازی کی صنعت میں گزشتہ سال کی نسبت 5 اعشاریہ 9 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح اہم فصلوں کی پیداوار بھی مقررہ اہداف سے کم رہنے کی توقع ہے۔

مہنگائی میں دو گنا اضافہ

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن رہی جس کی وجہ آئی ایم ایف کا توسیعی فنڈ سہولتی پروگرام ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تھی جو رواں مالی سال کے آغاز سے شروع ہونے والے اضافے کے رجحان کا تسلسل ہے۔ تاہم واضح رہے کہ دسمبر کے آخر میں یہ شرح مزید بڑھ کر 12.63 فیصد تک جا پہنچ گئی، جو ملک میں نو سال کی بلند ترین سطح ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی یہ سطح نہ صرف گزشتہ برس کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں دگنی تھی بلکہ یہ سات برسوں کے دوران مہنگائی کی بلند ترین سطح بھی تھی۔

بینک کے مطابق اس صورت حال کی وجہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے اثرات، توانائی کے نرخوں کی اصلاح اور بجٹ میں محاصل بڑھانے کے لئے حکومت کے مالیاتی اقدامات ہیں۔ واضح رہے کہ محاصل بڑھانے کے لئے حکومت نے صارفی اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا، برآمدی شعبوں پر زیرو ریٹنگ کے نظام کا خاتمہ کیا، جب کہ چینی پر سیل ٹیکس میں کمی کی۔

خسارے میں کمی کی وجہ درآمدات کا کم ہونا ہے

رپورٹ کے مطابق خساروں میں کمی کے نتیجے میں معاشی استحکام کی جاری کوششوں کے ثمرات ظاہر ہوئے ہیں۔ مالی سال20 ء کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کا خسارہ گر کر گزشتہ برس کی نصف سطح سے بھی نیچے چلا گیا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ درآمدات میں نمایاں کمی ہے، جو تقریبا 21 فیصد رہی۔ لیکن دوسری جانب برآمدات کی شرح بھی پست رہی اور پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں صرف 2.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مگر رپورٹ کے مطابق حجم کے لحاظ سے برآمدات کی شرح نمو قابل ذکر رہی۔

مالیاتی شعبے میں مجموعی خسارہ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا۔ اس بہتری میں محصولات میں اضافے اور اخراجات پر کنٹرول، دونوں نے کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 959 ارب روپے ٹیکسز کی مد میں جمع کئے، جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 832 ارب روپے ریکارڈ کئے گئے تھے۔

حکومت نے اس بار ترقیاتی اخراجات کے لیے بھی فنڈز جاری کئے اور پہلی سہ ماہی میں ترقیاتی اخراجات میں 30.5 فیصد کی بلند نمو ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سہ ماہی کے دوران مجموعی محاصل میں 35.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ مالیاتی خسارے کو کم کر کے جی ڈی پی کے 0.7 فیصد لایا گیا ہے۔ جو گزشتہ 15 سہ ماہیوں کی کم ترین ترین سطح ہے۔

رواں سال معاشی ترقی کے اہداف حاصل ہونے کی توقع نہیں

پاکستان کے مرکزی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سال بجٹ میں مجموعی حقیقی ترقی کا 4 فیصد نمو کا ہدف حاصل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ کیونکہ زراعت اور صنعت میں رواں مالی سال سست آغاز کے باعث سالانہ اہداف کا حصول مشکل لگتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں جی ڈی پی کی نمو کی شرح 3.3 فیصد رہی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خریف کے نظرِ ثانی شدہ تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم فصلوں کی پیداوار رواں سال کے ہدف سے کم رہ سکتی ہے۔ اسی طرح مالی سال20 ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑی صنعتوں کے شعبے میں بھی گزشتہ سال کی نسبت 5.9 فیصد کمی ہوئی۔ جب کہ گزشتہ مالی سال میں بھی مجموعی طور پر اس میں 3.4 فیصد کمی کا رحجان تھا۔

رپورٹ کے مطابق تعمیرات سے منسلک صنعتوں، پیٹرولیم اور گاڑیوں کی صنعتوں کی افرانش کی شرح میں بھی کمی کا رجحان جاری رہا۔ اس کے مقابلے میں ایکسچینج ریٹ میں کی گئی اصلاحات سے برآمدی صنعتوں کو کسی حد تک مدد ملی، جس کی عکاسی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی نسبتاً بہتر کارکردگی سے ہوتی ہے۔

ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا

مرکزی بینک کے مطابق بیرونی محاذ پر مالی سال 20ء کی پہلی سہ ماہی میں ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا عمل جاری رہا۔ تجارتی خسارے میں نمایاں بہتری، آئی ایم ایف سے قرضے کی پہلی قسط کی وصولی اور بیرونی سرمایہ کاری میں کچھ اضافے کے ساتھ جاری کھاتے کے فرق کو دستیاب رقوم سے پورا کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان رقوم کی آمد سے پہلی سہ ماہی کے دوران اسٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں 656.2 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے اور واجبات میں 1.3 ارب ڈالر کم کرنے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ مسائل کے حل کے ساتھ معیشت کو متوازن بناتے ہوئے پائیدار معاشی افزائش کی راہ پر گامزن رہے۔ جب کہ ملک میں کاروبار کرنے میں آسانیاں لانا بھی ضروری ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی فرموں کو حکومت کی معاون پالیسیوں، بالخصوص برآمدات کے فروغ کی رعایات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مرکزی بینک نے کی رپورٹ میں حکومت کی جانب سے سٹیٹ بینک کے قرضوں کو رول اوور کرنے، خسارے کی مونیٹائزیشن سے گریز کرنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

معاشی استحکام کی قیمت غریب ادا کر رہے ہیں: ڈاکٹر اشفاق حسن

قومی معیشت پر مرکزی بینک کی سہ ماہی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے کہ حکومت جس طریقے سے معاشی استحکام لا رہی ہے، اس کی قیمت ملک کے غریب عوام ادا کر رہے ہیں۔

قومی پیداوار میں کمی، مہنگائی میں تیزی، قرضوں کے حجم اور خسارے میں بے تحاشہ اضافہ اس کی قیمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ شروع سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ حکومت نے جس طرح معیشت کا راستہ بند کر رکھا ہے، اس کا نتیجہ بے روزگاری اور مہنگائی ہی کی صورت میں نکلنا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ استحکام حاصل کرنے کی یہ کوشش ملک کی معیشت اور معاشرت پر انتہائی گہرے منفی اثرات مرتب کرے گی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ حکومت کے ان اقدامات سے ملک میں پائیدار معاشی استحکام لایا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے خیال میں حکومت کے پاس معاشی اعشاریوں اور معیشت کا ادارک رکھنے والی ٹیم ہی سرے سے موجود نہیں۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.