قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی میں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ ترمیمی بل  کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔ 

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں چیئرمین دفاعی کمیٹی امجد علی خان نےآرمی ایکٹ ترمیمی بل پرکمیٹی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

اسپیکر کی ہدایت پر  وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ،ائیرفورس ایکٹ اورنیوی آرڈیننس میں ترامیم کی علیحدہ علیحدہ تحاریک پیش کیں۔ اجلاس میں فوجی سربراہان کے بارے میں قانون سازی کی علیحدہ علیحدہ منظوری دی۔

بل کی منظوری میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور بی اے پی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی حصہ لیا جب کہ جےیوآئی (ف)، جماعت اسلامی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان نے بل کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔

پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے پارلیمانی پارٹی اجلاس

قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے الگ الگ اجلاس ہوئے۔

تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان نے کی، پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس نے پیپلز پارٹی کی تمام ترامیم مسترد کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں آرمی ایکٹ بل متفقہ طور پر منظور

پس منظر

سپریم کورٹ نے 26 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 3 سال کی توسیع معطل کردی تھی۔ 28 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو 6 ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو 6 ماہ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.