ایران کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ طے ہونے کی توقع ہے، وائٹ ہاؤس

مزید خبریں

وائٹ ہاؤس کی سینئر مشیر کیلی این کانوے کا کہنا ہے کہ صد ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ نیا جوہری سمجھوتہ طے کرنے کے بارے میں پر امید ہیں۔

ان کا یہ بیان ایران کی طرف سے 2015 میں طے کیے گئے جوہری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ کسی نئے جوہری معاہدے پر سمجھوتہ طے کر سکتے ہیں تو کیلی این کانوے نے رپورٹروں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اس کے لئے تیار ہیں اور اگر ایران معمول کے مطابق مناسب برتاؤ کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کرے تو صدر ٹرمپ ایسا ضرور کریں گے۔

ایران نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ جوہری ایندھن کی افزودگی کی مقررہ حد ترک کر دے گا۔ ایران اس اقدام سے 2015 میں امریکہ سمیت چھ ممالک کے ساتھ طے کیے گئے جوہری معاہدے سے الگ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس جوہری معاہدے کی حیثیت کے بارے میں حتمی اعلان اس ہفتے کے آخر تک کر سکتا ہے۔ تاہم ایران کا یہ اقدام ایران کے فوجی جنرل قاسم سلیمانی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایران سابقہ جوہری معاہدے میں طے کی گئی یورینیم کی افزودگی، سینٹری فیوجز کی تعداد اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق حدود کی مزید پاسداری نہیں کرے گا اور اس سلسلے میں کوئی پابندی قبول نہیں کرے گا۔

ادھر جوہری توانائی کے لئے اقوام متحدہ کے نگران ادارے آئی اے ای اے نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے جوہری افزودگی سے متعلق کسی بھی اقدام کے بارے میں رکن ممالک کو فوری طور پر آگاہ کرے گا۔

آئی اے ای اے ایران کے ساتھ 2015 میں طے کیے گئے جوہری معاہدے کے تناظر میں ایران کے جوہری اقدامات کی نگرانی کر رہا ہے، جس کے تحت ایران کی طرف سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کے بدلے اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

2015 کے معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی 3.67 فیصد تک محدود رکھنے کا پابند بنایا گیا تھا اور ایران حالیہ مہنیوں میں یہ شرح 4.5 فیصد تک محدود رکھتا رہا ہے جو ایٹم بم بنانے کے لئے درکار 90 فیصد کی سطح سے بہت کم ہے۔ جوہری معاہدے سے قبل ایران یورینیم کو 20 فیصد کی سطح تک افزودہ کر رہا تھا۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.