‘امریکہ بھرپور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے’

مزید خبریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہم اہلکاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران سے جنگ ٹل جائے گی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے کسی فوجی اشتعال انگیزی سے کام لیا تو امریکہ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو یونانی وزیر اعظم کریاکس متساکس سے ملاقات کے موقع پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے کی صورت میں ہم بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر حملہ ہوا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اس سے کچھ دیر پہلے پینٹاگان میں وزیر دفاع مائیک ایسپر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اگر ہم پر لڑائی مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایسپر نے کہا کہ امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ میں اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کا بندوبست کیا ہے جبکہ خطے میں افواج کی نئے سرے سے تعیناتی کی جارہی ہے۔

ایسپر اور انتظامیہ کے دیگر حکام نے بغداد ہوائی اڈے کے قریب ڈرون حملے میں ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ہدف بنانے کا دفاع کیا اور کہا کہ اس کا مقصد مزید امریکیوں کو نشانہ بننے سے محفوظ رکھنا تھا۔

ایسپر نے کہا کہ جنرل سلیمانی کی جانب سے حملوں کی نئی منصوبہ بندی کے نتائج چند دن میں سامنے آنے والے تھے۔ انھیں پیش بندی کے طور پر ہدف بنایا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ انٹیلی جنس ذرائع نے صدر ٹرمپ کو کئی قسم کی اطلاعات فراہم کی تھیں، جس کے بعد انھوں نے جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنرل سلیمانی ’’برے عزائم کے ساتھ‘‘ عراق میں موجود تھے۔

قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی امریکی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے، جس میں امریکی سفارت کار، فوجی، ملاح، فضائیہ اور میرینز کو ہلاک کرنا شامل تھا۔

او برائن نے کہا کہ جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے کی بنیاد ’’ٹھوس ثبوت اور انٹیلی جنس اطلاعات‘‘ پر مبنی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کئی برسوں سے مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد حملوں کی کارروائیاں کرنے میں مصروف تھے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.