عالمی برادری کا کشیدگی کم کرنے پر زور

امریکی ڈرون حملے میں ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے بھی عراق میں امریکی تنصیبات پر میزائل حملے کیے ہیں۔ جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک نے امریکہ اور ایران کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کریں۔

ایران کی جانب سے بدھ کو عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں عین الاسد اور اربیل میں فوجی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد پاکستان سمیت دیگر ملک ایران اور امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ مزید کسی کارروائی سے گریز کریں۔

پاکستان، بھارت، فلپائن سمیت دیگر ملکوں نے اپنے شہریوں کے لیے الرٹ بھی جاری کر دیے ہیں جب کہ متحدہ عرب امارات کی ایئر لائن نے بغداد کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی میں کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ خطّہ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت خطّے کی صورتِ حال غیر یقینی ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ معاملات مزید نہ بگڑیں اور یہ خطہ کسی جنگ میں نہ الجھ جائے۔

عراق میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو ایران کی طرف سے نشانہ بنائے جانے پر وزیر خارجہ نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ جن پر حملہ ہوا، وہ اس وقت خود صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کے بقول جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ لیکن ابھی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

نئی دہلی سے وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کے مطابق بھارت نے بھی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارت میں ایران کے سفیر علی چیگانی نے نئی دہلی میں قاسیم سلیمانی کی ہلاکت سے متعلق تعزیتی ریفرنس کے دوران کہا کہ ایران، خطے میں قیام امن کے لیے بھارت کی کوششوں کا خیر مقدم کرے گا۔

بھارت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر عراق کے سفر سے گریز کریں تا وقتیکہ کہ دوسرا ہدایت نامہ جاری نہیں کیا جاتا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اپنے اُن شہریوں کو بھی غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے جو عراق میں موجود ہیں۔ اُنہیں بغداد میں سفارت خانے اور اربیل کے قونصل خانے سے رابطے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

جاپان نے حالیہ کشیدگی پر دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں اور سفارت کاری کے ذریعے تعلقات میں بہتری لائیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش کا کہنا ہے کہ خطے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ تناؤ میں فوری طور پر کمی لائی جائے۔ دونوں فریقین کے لیے کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے اور استحکام کے لیے سیاسی راستہ اختیار کریں۔

یورپی یونین نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کا استعمال فوری ترک کرنے پر زور دیا ہے۔ یونین نے واشنگٹن اور تہران سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی ختم کر کے مذاکرات کا سلسلہ پھر سے جوڑیں۔

برطانیہ نے عراق میں امریکی تنصیبات پر ایرانی حملے کی مذمت کی ہے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب کا کہنا ہے کہ عراق میں اتحادی افواج بھی موجود ہیں۔ جن میں برطانوی فوجی بھی شامل ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کو مزید حملوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں حالات معمول پر لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

‘ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو جواب ملے گا’

ایرانی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیا مین نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملے کی غلطی کی تو اسے سخت جواب ملے گا۔

بدھ کو یروشلم میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ "ہم کسی کو اپنے شہریوں کی جانیں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم طاقت اور قوت کے ساتھ حملہ آوروں کو جواب دینے کے لیے کھڑے ہیں۔ جس نے بھی جارحیت کی کوشش کی اسے منہ توڑ جواب دیں گے۔”

نیتن یاہو نے کہا کہ قاسم سلیمانی خطے کے ہزاروں بے گناہ افراد کے قاتل اور عدم استحکام کے ذمہ دار تھے۔ صدر ٹرمپ دہشت گردوں کے سرغنہ کے خلاف کارروائی پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو (فائل فوٹو)

‘خطے میں امریکہ کی ٹانگ کاٹ دی جائے گی’

ایران کی ‘فارس’ نیوز ایجنسی کے مطابق صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شکل میں امریکہ نے ایران کا ایک بازو کاٹا ہے. لیکن اس کے جواب میں امریکہ کی خطے میں ٹانگ کاٹ دی جائے گی۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکی تنصیبات پر ایران کے میزائل حملے امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ امریکہ کو خطے سے اپنی افواج نکال لینی چاہیے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب تک ہونے والا ملٹری ایکشن مناسب نہیں۔ اہم یہ ہے کہ خطے سے امریکہ کی موجودگی کا خاتمہ کیا جائے۔

تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے کہا ہے کہ ایرانی حملے میں عراقی آئل تنصیبات محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار معمول کے مطابق جاری ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی (فائل فوٹو)

ایران کے صدر حسن روحانی (فائل فوٹو)

تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کے حملے کے بعد عالمی مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت میں دو اعشاریہ سات فی صد اضافے سے 70 اعشاریہ 10 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ کروڈ آئل کی قیمت میں یہ ستمبر 2019 کے بعد سے یہ سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی طرح عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت میں ایک اعشاریہ نو ایک فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان، بھارت اور فلپائن نے عراق میں اپنے شہریوں کے لیے سفری الرٹ جاری کر دیے ہیں۔

فلپائن کی وزارت خارجہ نے ایران کے حملے کے بعد فوری طور پر اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

فلپائن کی وزارت خارجہ کے ترجمان ایدردو میڈز کے مطابق عراق میں مقیم فلپائنی باشندوں کے لیے الرٹ لیول 4 جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق ہر فلپائنی کو فوری طور پر عراق سے نکلنا ہوگا۔

اسی طرح پاکستان کی وزارت خارجہ نے عراق کے سفر پر جانے والے اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر برتنے کی ہدایت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی جو عراق میں موجود ہیں وہ فوری طور پر بغداد میں موجود سفارت خانے سے رابطہ کریں۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.