ربِ کائنات سے رابطہ مگر کیسے۔۔۔۔۔۔؟

اﷲ تعالی خود ہم انسانوں کو اپنے ساتھ بہ راہ ِ راست رابطے کی طرف بلاتے ہیں۔ فوٹو : فائل

مزید خبریں

ہم کون ہیں۔۔۔۔؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کہاں جانا ہے؟ ہماری پیدائش کا مقصد کیا ہے؟ یہ کائنات کس نے بنائی ہے؟ اس ہستی سے کیسے رابطہ ممکن ہے ۔۔۔۔؟

ان سب سوالات کے جوابات ہمیں بہ آسانی قرآن مجید سے میسر ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اگر اﷲ تعالی سے بہ راہ ِ راست رابطہ ممکن ہے تو کیسے ۔۔۔۔ ؟ یہ بات طے ہے کہ جو ذات بھی ہمارے ذاتی نوعیت کے معاملات میں شاملِ گفت گو ہوتی ہے، ہم اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ روحانیت دراصل اﷲ تعالی سے ذاتی نوعیت کے تعلقات استوار کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع اور ان مذہبی مہارتوں کا اجمالی بیان ہے جو ہم مسلمان آپؐ کے دینِ اسلام میں اپنی استعداد کے مطابق، اپنی روحانی ترقی کے لیے بہ روئے کار لاتے ہیں۔

حدیث جبرائیل ؑ صحیح بخاری ترجمہ و مفہوم کے مطابق : ’’ احسان یہ ہے کہ آپ اﷲ کی عبادت ایسے کریں کہ آپ گویا اﷲ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو پھر یہ تو سمجھیں کہ وہ تو آپ کو دیکھ ہی رہا ہے۔‘‘ یوں اﷲ کے آخری رسول ﷺ نے واضح کیا کہ ہر مسلمان اﷲ تعالی سے بہ راہ ِ راست رابطہ کرسکتا ہے۔ گویا کہ اسلام کی تقریبا ً تمام ہی عبادات میں اس کا عملی ثبوت ہمیں میسر ہے۔

مگر نماز اور روزے میں، اﷲ کو اپنی زندگی میں شامل اور محسوس ہونے کا تاثر پوری طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہے کہ روزہ تقوی پیدا کرتا ہے اور نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز اور روزے کی یہ روح ہمیں میسر آہی نہیں سکتی جب تک ہم دوران ِ نماز و روزہ، اﷲ کے ساتھ بہ راہ ِ راست آمنے سامنے والے احساس کے تحت باہم منسلک اور ہم کلام نہ ہوں۔ عبادات کے ذریعے روحانیت میں ترفع کے لیے یہ احسان کہلاتا ہے۔

اگر کسی شخص کے سامنے قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق حقوق اﷲ اور حقوق العباد متعین رہیں اور اس کے ساتھ اﷲ کے متعلق سامنے ہونے کا یقین بہ مطابق حدیث ﷺ سامنے ہو تو اﷲ تعالی سے بہ راہ ِ راست تعلق کے امکانات کس قدر واضح اور روشن ہوں گے۔ یہ انسانی حوالے سے سب سے زیادہ آسان اور عملی طور پر ممکن طریقہ ہے۔

اﷲ تعالی خود ہم انسانوں کو اپنے ساتھ بہ راہ ِ راست رابطے کی طرف بلاتے ہیں۔ ’’ اور اپنے رب کی طرف دل لگاؤ۔‘‘ سورہ رعد کی آیت، ترجمہ و مفہوم : ’’ جو اس کی طرف جھکتا ہے وہ اسے راستہ دکھا دیتا ہے۔‘‘ سورہ عنکبوت کی آیت، ترجمہ و مفہوم کے مطابق نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے تو صرف اسی صورت میں کہ ہم حضور ﷺ کی تلقین کے مطابق اﷲ کو بہ راہ ِ راست اپنے ساتھ زندگی میں شامل و محسوس سمجھیں۔ سورہ النساء کی آیت، ترجمہ و مفہوم : ’’ پس جو لوگ اﷲ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑ لیا تو انہیں وہ عن قریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لے گا اور انہیں اپنی طرف کی راہ ِ راست دکھا دے گا۔‘‘

یوں اﷲ تعالی خود آپ کو حق الیقین کی منزلوں کی طرف لے چلے گا۔ آپ ﷺ جس طرح احسان کی روش پر گام زن تھے، اﷲ تعالی نے اس کے شایان ِ شان حق الیقین کی منزلوں کے لیے واقعۂ معراج کو وقوع پذیر کیا۔ ہمیں ہمارے معیار کے احسان کے مطابق حق الیقین کی طرف لے جایا جائے گا۔ نماز کو اسی لیے معراج مومن کہا جاتا ہے۔ سورہ کہف میں ان چند نوجوانوں کا تذکرہ موجود ہے۔

جنہوں نے اﷲ تعالی سے بہ راہ ِ راست ہدایت کی دعا کی اور پھر اﷲ تعالی نے انہیں حق الیقین کی منازل طے کرائیں۔ یوں طریقۂ احسان کے مطابق اﷲ تعالی سے بہ راہ ِ راست ہم کلامی ہمیں نفس ِ مطمئنہ کی طرف لے جائے گی۔ اﷲ تعالی سے ہم کلامی کا مطلب ہے کہ آپ اپنی زندگی میں موجود کسی ادنی درجے کی بھی کھٹک، کمی اور رحمت کی دست یابی پر اس کا برملا اظہار صرف اﷲ تعالی سے کردیں۔

حدیث جبرائیل ؑ کے تحت، نبی ﷺ کے ذریعے اﷲ کا تعلیم کردہ طریقۂ احسان، انسانوں کو اﷲ کے ساتھ بہ راہ راست کرتا ہے۔ طریقۂ احسان میں ہر عمل کے کرنے سے پہلے، اﷲ کی رضا مندی کے حصول کا سادہ اور واضح اصول متعین رہتا ہے اور ساری بات ہمارے عمل کرنے یا نہ کرنے تک موقوف ہوتی ہے۔ احسان بہ راہ راست اﷲ اور رسول اکرم ﷺ کا تعلیم کردہ ہے۔ احسان میں آپ اپنے آپ کو اﷲ تعالی کے سپرد کر دیتے ہیں اور صرف اور صرف اﷲ کے حکم اور سنت ِ رسول اکرم ﷺ کو مانتے ہوئے اﷲ کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہم مسلمان بھی کہلاتے ہیں کہ ہم سرتسلیم خم کرچکے ہیں۔ اور اس حوالے اپنی عقل و خرد کو صرف ان احکامات کی حکمتیں سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سورہ مومن کی آیت کے مطابق ترجمہ و مفہوم : اور اس ایمان دار شخص نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم سب میری پیروی کرو میں نیک راہ کی طرف تمہاری راہ بری کروں گا۔ مگر یہ راہ بری بھی صرف اور صرف اﷲ اور رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق حکم اور نصیحت پر ہی موقوف ہوسکتی ورنہ غلطی اور کوتاہی کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔

اﷲ تعالی سے بہ راہ راست تعلق صرف نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی بسر کرنے سے ہی ممکن ہے۔

Loading...

Comments are closed.