ٹرمپ کے مواخذے کا معاملہ آئندہ ہفتے سینیٹ میں جانے کا امکان

امریکہ کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق الزامات کی فہرست آئندہ ہفتے سینیٹ کو ارسال کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایوانِ نمائندگان کی منظوری کے بعد انتظار کیا جا رہا تھا کہ یہ معاملہ کب سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔

ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کی مخالف جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ان کے مواخذے کی منظوری دے دی گئی تھی۔

البتہ سینیٹ میں حکمراں جماعت ری پبلکن کو اکثریت حاصل ہے۔ اور غالب امکان یہی ہے کہ یہاں صدر کے مواخذے کی منظوری نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کا مواخذہ کیا جمہوری نظام پر اثرانداز ہوگا؟

سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت ریپبلکن پارٹی کے رہنما مچ مکونیل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سینیٹ میں ضابطے کی کارروائی کے معاملے پر اب ایوان نمائندگان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی۔

ان کے بقول مواخذے کی خاطر ہم اپنے اختیارات سے سبکدوش نہیں ہوں گے۔ ڈیموکریٹس کی باری ختم ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے اضافی تفصیل اور گواہان پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2020 کے انتخابات سے قبل ممکنہ طور پر سینیٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاملے سے آزاد کر سکتی ہے۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ایوان میں موجود ڈیموکریٹس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ آئندہ ہفتے ایوان میں ایک قرار داد لائی جا سکتی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف معاملے کے حوالے سے مینیجرز مقرر ہوں جب کہ مواخذے کا معاملے سینیٹ کو منتقل کیا جائے۔

ڈیموکریٹ ارکان کے مطابق نینسی پیلوسی 10 قانون سازوں کو مینیجر مقرر کر سکتی ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے لیے دو الزامات پر قراردادیں منظور کی تھیں۔

ان قرار دادوں کے تحت صدر کو ذاتی مفادات کے لیے طاقت کے بے جا استعمال اور اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات شامل تھے۔

دوںوں الزامات پر دسمبر 2019 کے وسط میں ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ ہوئی۔ ایوانِ نمائندگان نے دونوں الزامات پر اکثریتی ووٹوں سے مواخذے کی قراردادوں کی منظوری دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال سے متعلق آرٹیکل ایک پر ایوانِ نمائندگان میں 230 ارکان نے حق میں جبکہ 197 نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق آرٹیکل دو کی 198 کے مقابلے میں 229 ووٹوں سے منظوری دی گئی تھی۔

امریکہ کی 243 سالہ صدارتی تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

قرار دادوں کی حمایت میں ڈیموکریٹس جبکہ مخالفت میں ریپبلکن ارکان کی اکثریت نے ووٹ دیا۔ قرار دادوں کی منظوری کے لیے ہونے والے اجلاس کی نمائندگی اسپیکر نینسی پلوسی نے کی تھی۔

مواخذے کے حق میں قرار دادوں کی منظوری کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر صدر ٹرمپ کے خلاف غیرقانونی دفعات منظور کیں جب کہ انہیں ریپبلکن کا ایک ووٹ بھی نہ مل سکا۔

قبل ازیں نینسی پیلوسی اس حوالے تصدیق یا تردید نہیں کر رہی تھیں کہ وہ مواخذے کی منظور شدہ شقوں کو کب سینیٹ بھجوائیں گی۔

وہ کہتی رہی ہیں کہ اگلے مرحلے یہ دیکھنا ہوگا کہ سینیٹ میں اس بارے میں کیا لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ہی اس کیس کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.