پوٹن، مرکل ملاقات میں امریکہ، ایران تناؤ پر بات چیت

مزید خبریں

جرمن چانسلر آنگلہ مرکل اور روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ہفتے کے روز ماسکو میں مذاکرات کیے، جس دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دیگر تنازعات پر گفتگو ہوئی۔

اس سے قبل، اسی ہفتے، جرمن سربراہ کے ترجمان نے روس کو سیاسی تنازعات کے حل کے حوالے سے ”ناگزیر” قرار دیا تھا، چونکہ، بقول ترجمان، روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کا درجہ رکھتا ہے۔

جرمنی اور روس ان عالمی طاقتوں میں شامل تھے جنھوں نے 2015ء میں ایران اور امریکہ کے مابین جوہری معاہدہ طے کرانے میں کردار ادا کیا تھا،اس معاہدے سے امریکہ 2018ء میں یک طرفہ طور پر علیحدہ ہوگیا تھا۔

ہفتے کے روز ایران کا یہ تسلیم کرنا کہ اس کا ایک طیارہ شکن میزائل اس ہفتے یوکرین کے مسافر طیارے کو جا لگا، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار 176 افراد ہلاک ہوئے، اب جوہری سمجھوتے کو قائم رکھنے کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پوٹن کے ساتھ ملاقات کے بعد، مرکل نے کہا کہ ”تہران میں مسافر طیارے کے المیے کے سلسلے میں یہ بات بہتر ہوئی کہ جو لوگ اس کے ذمے دار تھے ان کا پتا لگ گیا، اور میں سمجھتی ہوں کہ اب وہ تمام کوششیں کی جانی چاہئیں جن سے متعلقہ اور متاثرہ ملکوں کے لیے حل تلاش کیے جا سکیں۔”

جرمن اور روسی سربراہان نے لڑائی کے شکار لیبیا کے تنازع پر بھی بات چیت کی۔ پوٹن نے کہا کہ وہ لیبیا کے بحران کے حل کے لیے جرمنی کی جانب سے اجلاس بلانے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ لیبیا کے معاملے پر جرمنی کی جانب سے برلن میں بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرنے کی تجویز بر وقت پیش کی گئی ہے”۔

بقول ان کے، ”ضرورت اس بات کی ہے کہ برلن کا اجلاس ان ملکوں کی شرکت کو یقینی بنائے جو لیبیا کے بحران کے حل میں مدد دینے میں فی الواقع پرعزم ہیں، تاکہ ٹھوس نتائج برآمد ہو سکیں۔ جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے لیبیا کے اصل فریقین کو مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں شامل کیا جائے”۔

پوٹن نے ان دعووں کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ پوٹن کے ایک اتحادی سے منسلک روسی کمپنی کے کرائے کے سپاہی لیبیا میں ایک باغی جنرل کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی روسی وہاں موجود ہے تو وہ حکومت کی نمائندگی نہیں کرتا۔

مرکل اور پوٹن نے مشرقی یوکرین میں تنازع کے خاتمے کے لیے کوششوں پر بھی بات چیت کی۔ ساتھ ہی، ‘نورڈ اسٹریم 2 پائپ لائن’ پر گفتگو کی، جس سے روسی گیس جرمنی پہنچائی جائے گی۔ امریکی تعزیرات اس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں رکاوٹ ہیں۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.