سندھ پولیس کے آئی جی تبدیل کرنے کی سفارش کیوں کی گئی؟

مزید خبریں

سندھ حکومت نے صوبے میں تعینات انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر کلیم امام کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی حکومت نے آئی جی سندھ کو ان کی قانونی مدت یعنی تین سال مکمل ہونے سے 20 ماہ قبل ہی انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئی جی سندھ کو ہٹانے کے لئے ایسی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، جن کی بنا پر انہیں اس عہدے سے ہٹایا جا سکے۔

سندھ حکومت نے صوبے میں آئی جی کی تقرری کے لئے تین نئے نام بھی وفاقی حکومت کو بھیج دیے ہیں۔

تاہم، اس عمل پر وفاق میں برسر اقتدار پاکستان تحریک انصاف کی ایک رہنما نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو وہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔

سندھ کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات سعید غنی نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ آئی جی سندھ نے کابینہ کا اعتماد کھو دیا ہے۔ اس لئے کابینہ نے اتفاق رائے سے وزیر اعلیٰ سندھ کو یہ کہا ہے کہ وہ وفاق کو خط لکھ کر موجودہ آئی جی کی خدمات واپس کریں اور نئے آئی جی کی تعیناتی کے لئے سفارشات بھیجیں۔

سعید غنی کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کی تقرری کے 16 ماہ میں صوبے میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ میڈیا اور عام لوگ سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ لیکن صوبائی حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کا دفاع کیا اور کوشش کی کہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے۔

وزیر اطلاعات کے بقول، اس کے باوجود بدقسمتی سے جرائم کی شرح کنٹرول میں نہیں آئی اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔

حکومت نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ آئی جی سندھ نے قوانین کی صریح خلاف ورزی کی، غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے اور اپنے ہی افسران کے خلاف غلط سفارشات بھیجیں۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ پولیس کی جانب سے وفاقی حکومت اور مختلف سفارت خانوں کو براہ راست خطوط لکھے گئے جو قوانین کی کھلم کھلم خلاف ورزی تھی۔ سعید غنی نے متعدد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اغوا برائے تاوان کے کیسز حل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ پولیس کی غیر فعالی اور غیر پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے بھر میں تمام پولیس افسران آئی جی سندھ کی مرضی اور سفارشات کے تحت ہی تعینات ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی پولیس پرفارمنس دکھانے میں ناکام رہی۔

وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ تھانوں کی حالت بہتر بنانے کے بجائے پولیس افسران کے گھر بنانے پر زیادہ اخراجات ہوئے۔ ان کے بقول، حکومت، میڈیا اور عوام کو غلط اعداد و شمار دے کر پولیس کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیشہ صوبہ سندھ ہی میں آئی جی سندھ کی تبدیلی کو عدالتوں میں لایا جاتا رہا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومتوں کے قیام کے بعد وہاں متعدد بار آئی جیز کو تبدیل کیا جاتا رہا۔ لیکن، کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔

تحریک انصاف کا ردعمل:

ادھر تحریک انصاف کی صوبائی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ پولیس کو صوبے میں برسراقتدار جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی صوبے میں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پولیس کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وہ ٹھوس وجوہات نہیں بتا سکی جس پر آئی جی سندھ پولیس کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ ان کے مطابق، سرکاری افسران سے اپنے ذاتی ملازم کی حیثیت جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت کے دباؤ کے باعث پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کو برقرار رکھنے کے لئے وہ عدالتی دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔

کیا رکن اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج آئی جی کو ہٹانے کا باعث بنا؟

واضح رہے کہ اس سے قبل عمر کوٹ میں تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ پر مبینہ حملے پر عدالتی حکم پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نواب تیمور تالپور اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، جبکہ اسی طرح نواب تیمور تالپور کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے ان پر حملے اور مبینہ اغوا کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق، اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے پر نواب تیمور تالپور آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹوانا چاہتے تھے ۔تاہم، پیپلز پارٹی قیادت اس سے انکار کرتی آئی ہے۔

کیا پولیس کی کارکردگی آئی جی سندھ کو ہٹانے کی سفارش کی بنیاد بنی؟

سندھ میں قائم سیٹیزن پولیس لیژان کمیٹی کے سابق سربراہ اور سیکورٹی تجزیہ کار احمد چنوائے کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں دو چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کے انسپکٹر جنرل اور حکومت کے درمیان روابط یا تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جب تک یہ تعلقات بہتر ہوں دونوں میں ہم آہنگی نہیں ہوتی، کوئی بھی پولیس افسر کامیاب نہیں ہو سکتا، اور ان کے خیال میں اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا۔

احمد چنوائے کے مطابق، دونوں فریقین ایک دوسرے پر اپنی ناکامی کی ذمہ داریاں ڈالتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب جہاں سندھ حکومت نے کھل کر آئی جی سندھ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، ایسا کھلا اظہار آئی جی سندھ کی جانب سے کہیں پر بھی ریکارڈ پر موجود نہیں جس میں انہوں نے کہا ہو کہ ان پر سیاسی دباؤ ڈالا گیا۔ پولیس کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ کون سے غلط کام سیاسی دباؤ ڈال کر صوبائی حکومت نے کروائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کارکردگی کا دباؤ بھی مکمل طور پر پولیس قیادت پر ہی عائد ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں صوبے بھر، بالخصوص صوبائی دارلحکومت کراچی میں اسٹریٹ کرائم ایک ایسا اژدھا ہے جسے پولیس روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر کارکردگی خراب ہوگی تو سیٹ پر رہنے کا جواز تو نہیں رہے گا۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.