ایران، امریکہ کشیدگی موضوع بحث

رواں سال نومبر میں شیڈول امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند چھ اُمیدواروں کے درمیان امریکی ریاست آیووا میں مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔

مباحثے میں سابق نائب صدر جو بائیڈن، سینیٹر برنی سینڈرز، سینیٹر ایمی کلوبوچر، ساؤتھ بینڈ انڈیانا کے میئر پیٹ بوٹاج، سینیٹر الزبتھ وارن اور ٹام اسٹیئر نے شرکت کی۔

امریکہ ایران کشیدگی اور عراق میں 2003 کے امریکی حملے کے معاملے پر اُمیدواروں کے مابین گرما گرم بحث ہوئی۔

سینیٹر برنی سینڈرز نے سابق نائب صدر جو بائیڈن کو عراق پر حملے کی حمایت کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی غلط رپورٹس کے باوجود جو بائیڈن نے اپنے ووٹ کے ذریعے حملے کا جواز فراہم کیا۔

برنی سینڈرز نے کہا کہ "جو بائیڈن نے امریکی تاریخ میں خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی غلطی کی حمایت کی۔” خیال رہے کہ سینڈرز نے عراق پر امریکی حملے کی مخالفت کی تھی۔

جو بائیڈن ووٹ دینے پر غلطی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ البتہ، بحث کے دوران اُنہوں نے کہا کہ بطور امریکی نائب صدر اُنہوں نے جنگ کے خاتمے اور عراق سے ڈیڑھ لاکھ امریکی فوج کے انخلا میں اہم کردار کیا۔

سینیٹر ایمی کلوبوچر نے کہا کہ اُنہوں نے بھی عراق میں امریکی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق حالیہ اقدامات کے بعد ہمیں ایک اور جنگ کی جانب دھکیل دے رہے ہیں۔

سینیٹر برنی سینڈرز، جو بائیڈن اور سینیٹر الزبتھ وارن

ایمی کلوبوچر نے کہا کہ "ایرانی پاسدران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے احکامات دینے کا مطلب خطے میں امریکہ کو ایک نئی جنگ میں ملوث کرنے کے مترادف تھا۔”

میساچیوسٹس سے تعلق رکھنے والی سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ اگر اُنہیں موقع ملا تو پہلی فرصت میں مشرقِ وسطیٰ سے امریکی فوج کا انخلا کریں گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ساری فوج نکال لی جائے گی؟ جس پر الزبتھ وارن نے کہا کہ "ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ جہاں بھی دُنیا میں کوئی تنازع ہے وہاں امریکی فوج بھیج دی جائے۔ لہذٰا، مشرقِ وسطیٰ میں موجود ساری فوج نکال لی جائے گی۔”

برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکی عوام نہ ختم ہونے والی جنگوں سے تنگ آ کر تھک چکے ہیں۔

ساؤتھ بینڈ انڈیانا کے میئر پیٹ بوٹاج جو امریکی فوج میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف یعنی صدر بننے کے حق دار ہیں۔ کیوں کہ اُنہیں دفاعی معاملات کا تجربہ ہے۔

ارب پتی سماجی کارکن ٹام اسٹیئر نے کہا کہ وہ جو بائیڈن سے اتفاق کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں۔ لہذٰا، امریکہ اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرے گا۔

ڈیموکریٹک مباحثوں کا آغاز گزشتہ سال جون میں ہوا تھا، جن میں دو درجن سے زائد اُمیدوار شریک تھے۔ ان میں ایشین اور سیاہ فام اُمیدوار بھی شامل تھے۔ البتہ، فنڈز کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنا پر متعدد اُمیدوار دست بردار ہو گئے تھے۔

منگل کو ہونے والا یہ ساتواں مباحثہ تھا، جس کے بعد تین فروری کو آیووا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حمایتی اپنے من پسند اُمیدوار کو ووٹ دیں گے۔

مباحثے کے دوران برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن کے درمیان خاتون صدارتی اُمیدوار کے معاملے پر تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔

الزبتھ وارن نے گزشتہ سال برنی سینڈرز کی گفتگو کا حوالہ دیا جس میں وارن کے بقول، سینڈرز نے صدر ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے خاتون اُمیدواروں کی اہلیت پر سوال اُٹھایا تھا۔

برنی سینڈرز نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے کبھی نہیں کہا کہ خاتون اُمیدوار صدر ٹرمپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک اُمیدوار ہیلری کلنٹن کو رائے عامہ کے جائزوں میں ڈونلڈ ٹرمپ پر 30 لاکھ ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ لیکن ‘اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ’ ووٹنگ میں وہ ہار گئیں۔

الزبتھ وارن نے کہا کہ مباحثے میں شریک چار مرد اُمیدوار اب تک اپنے سیاسی سفر میں 10 انتخابات ہار چکے ہیں۔ لیکن، وہ اور ایمی کلوبوچر تاحال ناقابل شکست ہیں۔

آیووا میں عوامی جائزوں کے مطابق، برنی سینڈرز، الزبتھ وارن اور پیٹ بوٹاج کو بھی حمایت مل رہی ہے۔

منگل کو منعقد ہونے والے مباحثے میں شامل ڈیموکریٹک پارٹی کے کلیدی امیدوار اور سابق نائب صدر جو بائیڈن عوامی جائزوں میں اس وقت سب سے آگے ہیں۔

جو بائیڈن کو آیووا اور نیو ہیمشائر کی ریاستوں میں ہونے والی پہلی ووٹنگ میں اپنے مخالف امیدوار برنی سینڈرز سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔

نیو یارک کے سابق میئر مائیکل بلوم برگ نے صدارتی مباحثے میں شرکت کے لیے فی الحال کوالی فائی نہیں کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے ٹیلی ویژن اشتہارات کے ذریعے مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔

معروف تھنک ٹینک ’بائی پارٹیزن پالیسی سینٹر‘ کے جان فورٹیئر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اگرچہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں میں مقابلہ سخت ہے۔ تاہم، جو بائیڈن واضح طور پر باقی امیدواروں کے مقابلے میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہیںْ۔ اور اگر وہ انتخابی مقابلے کے ابتدائی دور میں اپنے گھوڑے سے گر نہیں پڑتے تو ان کو ہرانا مشکل ہوگا۔

آئندہ چند ہفتوں میں آیووا اور نیو ہیمپشائر میں ہونے والی اولین ووٹنگ کے ساتھ انتخابی مہم زور پکڑتی جائے گی۔ اور اس وقت یہ اندازہ ہو سکے گا کہ رپبلکن پارٹی کے امیدوار اور موجودہ صدر کا مقابلہ کرنے کے لیے کس امیدوار کو باقی امیدواروں کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں سبقت حاصل ہوتی ہے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.