صدر ٹرمپ کے مواخذے کا معاملہ امریکی سینیٹ میں پہنچ گیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان نے الزامات کی فہرست امریکی سینیٹ کے حوالے کر دی ہے۔ جہاں صدر کے مواخذے کا حتمی فیصلہ ہو گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے تیسرے صدر بن گئے ہیں جن کے مواخذے کی کارروائی جاری ہے۔

البتہ سینیٹ میں حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے اراکین کی اکثریت کے باعث صدر کے مواخذے کے امکانات کم ہیں۔

صدر کے مواخذے کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ "آج ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں، موجودہ صدر کا احتساب ضرور ہو گا۔”

دستخط کے بعد صدر کے خلاف الزامات کی فہرست سینیٹ کے حوالے کر دی گئی۔ یہ دستاویز ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی اور ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین کی موجودگی میں سینیٹ کی سیکریٹری جولی ایڈمز کے حوالے کی گئیں۔

صدر ٹرمپ پر دو الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جس میں یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالنا کہ وہ سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کریں۔ اور اس کے علاوہ انصاف کی راہ میں حائل ہونے کے الزامات شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو محض ایک مذاق قرار دیتے ہوئے ایوانِ نمائندگان پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

سینیٹ میں حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے اراکین کی اکثریت کے باعث صدر کے مواخذے کے امکانات کم ہیں۔

مواخذے کی دستاویز سینیٹ کو موصول ہونے کے بعد اسے مواخذے کی عدالت کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ امریکی آئین کے مطابق اس کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے جبکہ سینیٹ اراکین جیوری کے طور پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا حلف اُٹھائیں گے۔

سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی ری پبلکن پارٹی کے رہنما مچ مکونیل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سینیٹ میں ضابطے کی کارروائی کے معاملے پر اب ایوانِ نمائندگان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو گی۔ وہ مواخذے کی کارروائی کو امریکہ کے لیے مشکل وقت قرار دے چکے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں 193 کے مقابلے میں 228 ارکان نے مواخذے کا معاملہ سینیٹ کو بھجوانے کی منظوری دی تھی۔

اسپیکر نینسی پیلوسی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا اور یہ ان کے مواخذے کے لیے کافی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن رُکن کیون مک کارتھی نے کہا کہ امریکی تاریخ میں صدر کو ہٹانے کا یہ بُرا طریقہ سمجھا جائے گا۔ ان کے بقول صدر کو ہٹانے کے لیے انتہائی کمزور کیس تیار کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے یہ توقع کر رہے ہیں کہ سینیٹ دو ہفتوں کے اندر یہ معاملہ نمٹاتے ہوئے صدر کے مواخذے کی منظوری نہیں دے گی۔

البتہ سینیٹ میں ری پبلکن رہنما مچ مکونیل نے مزید کارروائی کا طریقہ وضع کر دیا ہے۔ تاہم ایوانِ نمائندگان کی جانب سے مزید گواہان پیش کرنے کے مطالبے پر سینیٹرز دباؤ میں ہیں کہ مواخذے کی کارروائی کو کس حد تک طول دیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو محض ایک مذاق قرار دیتے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو محض ایک مذاق قرار دیتے رہے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چئیرمین ایڈم شیف نے بدھ کو مزید دستاویزات جاری کی ہیں۔ جن میں صدر کے وکیل روڈی جولیانی کی ایک اور شخص کے ساتھ یوکرین پالیسی اور یوکرین میں امریکہ کی سفیر پر نظر رکھنے سے متعلق گفتگو شامل ہے۔

ایڈم شیف نے خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا حلف اُٹھانے والے سینیٹرز کو اب اپنے حلف کا پاس رکھنا ہو گا۔

خیال رہے کہ سینیٹ ووٹنگ کے ذریعے صدر کے خلاف الزامات کی فہرست کو مسترد کرنے کی بجائے گواہان کو سننا چاہتی ہے۔ امریکی صدر نے بھی اسی بات کا عندیہ دیا تھا۔

ری پبلکن سینیٹر مٹ رومنی کا کہنا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کو سننا چاہتے ہیں۔

بولٹن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صدر کے وکیل روڈی جولیانی کی جانب سے یوکرین کے لیے متبادل خارجہ پالیسی بنانے پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

بعض ری پبلکن اراکین کا کہنا ہے کہ وہ نائب امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے صاحبزادے جو ہنٹر کو سننا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ جو بائیڈن کے بیٹے جو ہنٹر اپنے والد کے نائب صدر رہنے کے دوران یوکرین کی گیس کمپنی کے بورڈ ممبر تھے۔

صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ اُنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنے متوقع حریف جو بائیڈن کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ہنٹر کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائیں۔

صدر پر یہ بھی الزام ہے کہ اُنہوں نے یوکرینی صدر کو تعاون نہ کرنے پر امداد روکنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

امریکہ کے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی حالیہ مہینوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کے پاسدران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دینے پر بھی بعض حلقے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

Loading...

Comments are closed.