امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کا نیا تجارتی معاہدہ

مزید خبریں

امریکہ کے ایوان بالا، سینیٹ نے ایک ایسے موقع پر شمالی امریکی تجارتی معاہدے کی منظوری دی ہے جب سینیٹ ہی میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کا اگلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

نئے معاہدے کو یو ایس ایم سی اے کا نام دیا گیا ہے جو 25 سال پرانے ایک بین الاقوامی تجارتی معاہدے، این اے ٹی اے کی جگہ لے گا۔ یہ معاہدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے کے اعلان کا وقت اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سال صدر ٹرمپ اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے انتخابات کے اکھاڑے میں اتریں گے۔ اور وہ سابقہ تجارتی معاہدے کو امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے رہے ہیں۔

سینیٹ کی حکمران جماعت کے ری پبلیکن اور حزب مخالف ڈیموکریٹ سینیٹرز کی بھاری اکثریت نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے اسے منظور کیا۔ اس موقع پر امریکہ کے وزیر تجارت سٹیو منوچر کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عام صارف کو 2020 میں اس معاہدے کے نتیجے میں ایک مضبوط معیشت دیکھنے کو ملے گی۔ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس معاہدے سے ہماری معاشی شرح نمو میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئے گی۔

ابتدائی مزاحمت اور مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد ڈیموکریٹس اور لیبر یونینز نے اس معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا، جس میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 12 کھرب ڈالر کی تجارت کے لیے نئے قواعد کا تعین کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کو مضبوط بناتے ہوئے منڈیوں کو کھولنا ہے۔

تاہم، یو ایس ایم سی اے معاہدے کے اقتصادی اثرات درمیانی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کے بین الاقوامی ٹریڈ کمشن کا اندازہ ہے کہ اس سے سابقہ تجارتی معاہدے این اے ٹی اے کے مقابلے میں ایک فی صد کے ایک تہائی کے برابر ہی امریکی اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور امریکی روزگار میں بھی اضافے کی شرح انتہائی معمولی ہو گی۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک ماہر اقتصادیات جیفری گرٹز کہتے ہیں کہ یو ایس ایم سی اے پر دستخط کا حقیقی فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے وہ بے یقینی ختم ہو جائے گی جو ٹرمپ کی جانب سے این اے ایف ٹی اے سے نکل جانے کے سبب پیدا ہو گئی تھی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاہدے کے فوائد ہیں اور آگے چل کر شمالی امریکہ کی معیشت زیادہ مربوط ہو سکے گی۔

گرٹز کے مطابق، جس چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی جیت ہے جب کہ وہ نومبر میں دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین، مزدوروں کے حقوق کی ضمانتوں میں کچھ بہتری کی جانب اشارہ کرتے ہیں اگرچہ اس کی سطح اب بھی اس بہت کم ہے، جس کا مطالبہ ابتدا میں امریکی لیبر یونینز نے کیا تھا۔

اس معاہدے پر اس حوالے سے بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ ماحولیات کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے موقع پر اس معاہدے سے توانائی کی کمپنیوں کو کافی مراعات حاصل ہو گئی ہیں جب کرہ ارض کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سینیٹ میں اقلیتی ڈیموکریٹ لیڈر چک شومر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے کرہ ارض کو اس وقت جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے، یعنی ماحولیات کا بحران، اسے حل کرنے کے لیے یو ایس ایم سی اے میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔

Loading...

Comments are closed.