دو روز میں گندم کا بحران ختم ہو جائے گا: حکومت کا دعویٰ

مزید خبریں

پاکستان کے غذائی تحفظ (خوارک) و تحقیق کے وفاقی وزیر خسرو نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کے بحران کو دیکھتے ہوئے سرحد سے گندم کی غیر قانونی افغانستان منتقلی کو روک دیا گیا ہے۔

ان کے بقول آئندہ دو سے تین دن میں گندم کا بحران ختم ہو جائے گا اور حکومتی اقدمات کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں کمی آئے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ملحقہ چمن بارڈر پر ماہانہ 40 ہزار ٹن گندم غیر قانونی طور پر منتقل ہو رہی تھی جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے اب روک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے متعدد شہروں میں اس وقت گندم اور آٹے کی عدم دستیابی کے باعث بحران کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور اس صورت حال کے باعث آٹے کی قیمت میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بحرانی صورت حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب وزیر اعظم عمران خان نے چند روز قبل ہی صوبائی حکام کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ مہنگی اشیا خورو نوش کا تدارک کرتے ہوئے عوام کو سستی اشیا کی فراہمی یقینی بنائیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کریں۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خسرو بختیار نے بتایا کہ صوبوں کو گندم کی ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ گزشتہ روز نو ہزار ٹن گندم سندھ کو دی گئی ہے جب کہ 10 ہزار ٹن گندم کراچی پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لیے گندم کی سپلائی میں 4 سے 5 ہزار ٹن اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سوموار سے صوبے میں 10 ہزار میٹرک ٹن گندم روزانہ سپلائی ہوگی۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے نان بائی سوموار سے حکومت کے خلاف ہڑتال پر جانے کا اعلان کر چکے ہیں جب کہ پنجاب کی نان بائی ایسوسی ایشن نے حکومت کو پانچ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انہیں پرانے نرخ پر آٹا فراہم کرے یا پھر انہیں نان اور روٹی کی قیمتیں بڑھانے دی جائیں۔

وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں میں آٹے کے بحران پر سیاسی جماعتیں بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جب کہ تحریک انصاف کی قیادت اس بحران کا ذمہ دار سندھ میں حکومت کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو قرار دے رہی ہیں۔ آٹے کے بحران اور قلت کی سب سے زیادہ شکایات سندھ سے موصول ہو رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے گندم برآمد کرنے والے ملک کو گندم درآمد کرنے والا ملک بنا دیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے 40 ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان بھیجی جس کے نتیجے میں بحران نے جنم لیا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صوبہ سندھ میں آٹے کے بحران کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کوتاہی کرتے ہوئے گندم نہیں خریدی جس کے بعد وزیر اعظم نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے سندھ کو چار لاکھ ٹن گندم دینے کا حکم صادر کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی سندھ حکومت پر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر سندھ میں آٹے کے بحران کی ذمہ داری صوبائی حکومت ہے تو وفاق، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس بحران کا ذمہ دار کون ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔

Loading...

Comments are closed.