شاہی حیثیت ترک کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا: شہزادہ ہیری

برطانیہ کے شہزادے ہیری نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ میگھن آزاد مستقبل کی خواہش مند ہیں۔ ان کے پاس شاہی حیثیت کے ترک کرنے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایک تقریر میں شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں چاہتے تھے۔

شہزادہ ہیری کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ عوامی خزانے سے منفعت کے بغیر دولت مشترکہ اور فوجی خدمات جاری رکھوں لیکن افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوسکا۔

شہزادہ ہیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات کے اس نہج پر پہنچنے کا انہیں نہایت افسوس ہے۔ شاہی حیثیت کے خاتمے پر تبادلہ خیال مہینوں سے جاری تھا جب کہ یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اس معاملے کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ میں کہیں بھاگا تو نہیں جا رہا تھا پھر جلدی کیا تھی۔

شاہی حیثیت کے ختم ہونے کے بعد بھی ہیری شہزادے ہی رہیں گے تاہم وہ اب کسی بھی رسمی تقریب یا شاہی دوروں میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔

فائل فوٹو

مبصرین کا کہنا ہے ملکہ نے اصرار پر فیصلہ کن خط لکھا تھا جب کہ میگھن اور ہیری ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اور ہیری کے پاس واقعی کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔

شاہی ذرائع کے مطابق ہیری اور میگھن نے کرسمس کی چھٹیوں میں کینیڈا میں وقت گزارا تھا اور اس کے فوری بعد ہی میگھن نے آزادانہ مستقبل گزارنے کے حوالے سے معاملہ اٹھایا تھا تاہم ملکہ اور شاہی خاندان کے دیگر سینئر ممبران کو اس فیصلے پرتکلیف اور مایوسی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ بکنگھم پیلس کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کی شاہی حیثیت کو ان کی خواہش کے مطابق ختم کردیا گیا ہے۔

ہیری اور میگھن کی علیحدگی پر معاملات طے پاجانے کے بعد دونوں میاں بیوی سرکاری پیسہ استعمال نہیں کرسکیں گے جبکہ انہیں اپنے گھر کی تزین و آرائش پر خرچ کیے جانے والے 31 لاکھ ڈالر بھی واپس کرنا ہوں گے۔

ساتھ ہی ہیری کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ افغانستان میں ان کی خدمات کے عوض دیے جانے والے فوجی اعزازت بھی واپس کردیں۔

Loading...

Comments are closed.