کھانے پینے کے آداب و احکامات

اﷲ تعالی ہمیں کھلانے اور پلانے والا ہے تو کیوں نہ اس کی حمد و ثناء کریں!

مزید خبریں

اسلام ایک ایسا منظّم دین ہے، جس میں زندگی بسر کرنے کا مکمل طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دین بھی تمام مذاہب میں ممتاز اور دین دار بھی ممتاز ہیں۔

اسلام میں ادب و آداب کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس دین میں زندگی کے ہر فعل کے آداب موجود ہیں خواہ کھانے کے ہوں، پینے کے ہوں، سونے کے ہوں، چلنے کے ہوں، اٹھنے اور بیٹھنے کے ہوں۔ یہاں تک کہ بیت الخلاء میں جانے اور آنے کے آداب بھی ہیں۔ گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے آداب بھی ہیں۔ اس مضمون میں کھانے پینے کے آداب اور احکامات کا ذکر کیا جارہا ہے۔ دعا ہے کہ اﷲ پاک ہمیں ان پہ عمل کی اور ان آداب کو ہمارے لیے ذریعۂ نجات بنائے۔

کھانے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھونا چاہیے، تاکہ دونوں ہاتھ کھانے کے دوران صاف ستھرے ہوں، کہیں پہلے سے موجود ہاتھوں پر میل کچیل کی وجہ سے نقصان نہ ہو۔ کھانے سے پہلے بسم اﷲ پڑھنا واجب ہے، اور بسم اﷲ سے مراد کھانے کی ابتدا میں صرف ’’ بسم اﷲ ‘‘ ہی ہے۔

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اﷲ کا نام لے، اور اگر اﷲ تعالی کا نام لینا ابتدا میں بھول جائے تو کہے: بِسمِ اﷲِ اولہ و آخِرہ۔‘‘ مسلمان پر دائیں ہاتھ سے کھانا واجب ہے، بائیں ہاتھ سے کھانا منع ہے۔ چناں چہ ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔‘‘ (مسلم)

(نوٹ) یہ پابندی اس وقت ہے جب کوئی عذر نہ ہو، لہذا اگر کوئی عذر ہو جس کی وجہ سے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ممکن نہ ہو، جیسے بیماری یا زخم وغیرہ ہے تو بائیں ہاتھ سے کھانے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

٭ کھانے پینے کی اشیاء میں پھونک مارنا: حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ’’ نبی کریم ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔‘‘ (ابی داؤد)

٭ اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھانا: مسلمان کے لیے مسنون یہ ہے کہ اپنے سامنے موجود کھانے میں سے کھائے، اور دوسروں کے سامنے سے ہاتھ بڑھا کر نہ اٹھائے، اور نہ ہی کھانے کے درمیان میں سے، اس لیے کہ رسول اﷲ ﷺ نے عمر بن ابوسلمہؓ سے فرمایا تھا: ’’ لڑکے! اﷲ کا نام لے، اپنے دائیں ہاتھ سے کھا، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھا۔‘‘ (بخاری و مسلم )

ویسے بھی کھانے کے دوران اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے افراد کے سامنے سے کھانا کھانا بُری عادت ہے، اور مروت کے خلاف ہے، اور اگر سالن وغیرہ ہو تو ساتھ بیٹھنے والا زیادہ کوفت محسوس کرے گا، اس کی دلیل ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، اس لیے کھانے کے کنارے سے کھا درمیان سے مت کھا۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ) لیکن اگر کھانے کی اشیاء کھجوریں اور دیگر اسی قسم کی دوسری اشیاء ہوں تو علماء کے نزدیک تھالی وغیرہ سے ہاتھ کے ذریعے مختلف کھانے کی اشیاء لی جاسکتی ہیں۔

٭ کھانے میں عیب نکالنا: حضور اکرمؐ نے کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالے۔ آپؐ کو کھانا پسند آتا تو کھا لیتے اور اگر نہیں آتا تو چھوڑ دیتے تھے۔ مسلمان کو اپنے پیٹ کے تین حصے کرنے چاہییں، ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے : ’’ کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا، ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مختص کر دے۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’ دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہوکر (پیٹ بھرکر) کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہوگا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

٭ کھانے پینے کے لیے سونے اور چاندی کے برتن: کھانے پینے کے لیے سونے اور چاندی کے برتن استعمال نہ کریں، کیوں کہ یہ حرام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ موٹی اور باریک ریشم مت پہنو، اور نہ ہی سونے چاندی کے برتنوں میں پیو، اور نہ ہی اس کی بنی ہوئی پلیٹوں میں کھاؤ، اس لیے کہ یہ کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم ) کھانے سے فراغت کے بعد اﷲ کی تعریف کرنے کی بہت بڑی فضیلت ہے، چناں چہ انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ بے شک اﷲ تعالی اپنے بندے سے راضی ہوتا ہے جب وہ ایک لقمہ کھائے تو اﷲ کی تعریف کرے، یا پانی کا گھونٹ بھی پیے تو اﷲ کی تعریف کرے۔‘‘ (مسلم )

٭ کھانے کے بعد ہاتھ دھونا: کھانے کے بعد صرف پانی سے ہاتھ دھونے پر سنّت ادا ہوجائے گی۔ لیکن صابن یا کسی اور چیز سے بھی ہاتھ دھو لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ کھانے سے فراغت کے بعد کلی کرنا مستحب ہے، جیسے کہ بشیر بن یسارؓ سوید بن نعمانؓ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ صہبا نامی جگہ پر نبی ﷺ کے ساتھ تھے جو خیبر سے کچھ فاصلے پر ہے تو نماز کا وقت ہوگیا، آپ ﷺ نے کھانے کے لیے کچھ طلب کیا، لیکن سوائے ستو کے کچھ نہ ملا، تو آپ ﷺ نے وہی کھا لیا، ہم نے بھی ستو کھایا، پھر آپؐ نے پانی منگوایا اور کلی کی، اور پھر دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی اور ہم نے بھی نماز ادا کی۔‘‘ (بخاری)

٭ تین انگلیوں سے کھانا کھانا: سنّت یہ ہے کہ تین انگلیوں سے کھانا کھایا جائے۔ قاضی عیاض کہتے ہیں: تین سے زیادہ انگلیاں کھانے کے لیے استعمال کرنا بری عادت ہے، اور ویسے بھی لقمہ پکڑنے کے لیے تین اطراف سے پکڑنا کافی ہے، اور اگر کھانے کی نوعیت ایسی ہو کہ تین سے زیادہ انگلیاں استعمال کرنی پڑیں تو چوتھی اور پانچویں انگلی بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ (فتح الباری)

اگر کھانا کھاتے ہوئے لقمہ گر جائے تو اٹھا کر اس پر لگی ہوئی مٹی وغیرہ صاف کرکے اسے کھا لے اور شیطان کے لیے مت چھوڑے، کیوں کہ یہ کسی کو نہیں پتا کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ اسی لقمے میں برکت ہو جو گر گیا تھا۔ چناں چہ اگر لقمے کو چھوڑ دیا تو ہوسکتا ہے کہ اس سے کھانے کی برکت چلی جائے، اس کی دلیل انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ جب بھی کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے، اور آپؐ نے ایک بار فرمایا: اگر تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو ا سے صاف کرکے کھا لے، شیطان کے لیے اسے مت چھوڑے اور آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ پلیٹ کو انگلی سے چاٹ لیں، اور فرمایا: تمہیں نہیں معلوم کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ (مسلم )

کھانے سے فراغت کے بعد الحمدﷲ کہنا، اور دعا پڑھنا مسنون ہے اور ان دعاؤں میں اﷲ پاک کی حمد و ثناء کی جاتی ہے جس سے اﷲ تعالی خوش ہوتا ہے اور اپنے بندوں کو بہتر سے بہتر رزق عطا کرتا ہے۔ اﷲ پاک ہمیں کھلانے اور پلانے والا ہے کیوں نہ اس کی حمد و ثناء کریں، اﷲ پاک ہمیں حلال کی وافر روزی عطا فرمائے اور حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Loading...

Comments are closed.