سی پیک منصوبوں میں شفافیت کو مد نظر رکھا جاتا ہے: چینی سفارت خانہ

مزید خبریں

پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا، ایلس ویلز کی طرف سے سی پیک کے حوالے سے دیے گئے بیان کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

ایلس ویلز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں کنٹریکٹس ملے ہیں؛ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں اور پاکستان کا قرض چینی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 21 جنوری کو پاکستان کے دورے پر آنے والی امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا و وسطی ایشیا، ایلس ویلز نے ’’ایک مرتبہ پھر سی پیک کے حوالے سے منفی رد عمل دیا‘‘۔

بیان کے مطابق، ’’ایلس ویلز کے منفی بیان میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بلکہ نومبر 2019 والی تقریر کی تکرار ہے۔ اس پرانی تکرار کو پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں۔ لیکن، امریکہ ابھی تک اس ضمن میں حقائق کے برخلاف اور سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے‘‘۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ’’ہمیں امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر خوشی ہے۔ تاہم، ہم سختی سے پاک چین تعلقات اور پاک چین اقتصادی راہداری میں امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں‘‘۔

ترجمان کے بقول، ’’ایسا شخص جو سونے کی اداکاری کر رہا ہو اسے جگانا ناممکن ہے۔ ہم واضح طور پر اپنا مؤقف ظاہر کرتے ہیں اور امریکہ کے منفی پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ ’’سی پیک کے منصوبوں میں پاکستان اور چین باہمی مشاورت اور مشترکہ مفاد کے لیے باہمی تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم پاکستانی عوام کے مفادات کو سب سے پہلے رکھتے ہیں۔ گذشتہ پانچ برس میں 32 منصوبوں کی قبل از وقت تکمیل سے پھل حاصل ہوئے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے مقامی ذرائع آمد و رفت میں بہتری آئی اور روزگار کے 75 ہزار مواقع پیدا ہوئے۔ اس سے پاکستان کی معیشت میں جی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ ’’سی پیک پاکستان کی سوشیو اکنامک ڈیویلپمنٹ اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام کو دینا ہے نہ کہ امریکہ نے۔ سی پیک کے تحت کسی بھی منصوبے کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد تک پاکستان اور چین ہر منصوبے پر مشاورت، تفصیلی مطالعہ اور مشترکہ عملدرآمد کرتے ہیں۔ چینی حکومت چینی کمپنیوں سے ہمیشہ مقامی قوانین کے تحت کام کرنے کی درخواست کرتی ہے۔ سی پیک میں شامل ہونے والی تمام کمپنیاں بین الاقوامی تشخص رکھتی ہیں اور تمام چینی کمپنیاں سختی سے منڈیوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر قابل قبول بزنس ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کرتی ہیں۔ یہ تمام طریقہ کار کھلا، شفاف اور بین الاقوامی قوائد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے‘‘۔

چینی سفارت خانے نے کہا کہ ’’ہم پاکستان کے متعلقہ احتسابی اداروں سے رابطے میں رہتے ہیں اور اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ سی پیک صاف ہے‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکہ دنیا بھر میں پابندیوں کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا رہتا ہے۔ تاہم، یہ امریکی عمل عالمی معیشت کے لیے نہیں بلکہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے ہوتا ہے۔ پاکستانی اسٹیٹ بنک کے اعداد و شمار کے تحت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 110 ارب امریکی ڈالر ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور پیرس کلب سمیت عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضہ دینے والوں میں سر فہرست ہیں۔ سی پیک کے لیے کل قرضہ 5.8 ارب امریکی ڈالرز ہے جو کہ پاکستان کے کل بیرونی قرضہ جات کا 5.3 فیصد ہے۔ یہ چینی قرضہ 20 سے 25 برس کے دورانیہ میں دو فیصد شرح سود کے دوبارہ ادائیگیوں کا آپشن رکھتا ہے۔ چینی قرضہ جات کی ری پیمنٹس 2021 میں شروع ہو گی۔ 300 ملین امریکی ڈالرز کی سالانہ ری پیمنٹس پاکستان کے لئے بوجھ ثابت نہیں ہوں گی۔ چین نے کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے جبری طور پر مجبور نہیں کیا اور چین پاکستان سے بھی غیر معقول مطالبات نہیں کرے گا۔ امریکہ مسلسل خودساختہ قرضہ جات کی کہانی میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے‘‘۔

ترجمان چینی سفارت خانہ نے کہا کہ ’’امریکہ کا حساب کتاب کمزور اور ارداے بدتر ہیں‘‘۔

ایلس ویلز نے کیا کہا تھا؟

اپنے دورہ پاکستان کے دوران تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایلس ویلز نے پاک چین اقتصادی راہداری پر تنقید کرتے ہوئے اسلام آباد سے اس میں شمولیت کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں ٹھیکے ملے ہیں۔ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں ہے۔ پاکستان کا قرض چینی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

ایلس ویلز نے کہا کہ قرضوں کے مسئلے پر چینی پیسے معاونت نہیں کر رہے۔ منصوبوں کے لیے چین سے فنانسنگ حاصل کرکے پاکستان مہنگے ترین قرضے حاصل کر رہا ہے اور خریدار ہونے کے ناطے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے، کیونکہ اس سے ان کی پہلے سے کمزور معیشت پر بھاری بوجھ پڑے گا۔ امریکی نائب سیکرٹری نے ریلوے ایم ایل 1 منصوبے کی لاگت میں اضافے پر بھی بات کی، جس کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے بڑے منصوبوں پر شفافیت دکھانے کا مطالبہ کیا۔

امریکی حکام پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کو ماضی میں بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ لیکن، پاکستان اور چین دونوں کی طرف سے اس تنقید کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر اپنی کمزور معیشت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور ایسے میں چین کی طرف سے قرضے اور 55 ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ دیا گیا، جسے پاکستان ہر حال میں کامیاب بنانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حالیہ دنوں میں سی پیک اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔

Loading...

Comments are closed.