گریٹا پہلے معاشات پڑھیں، پھر ہم سے بات کریں، امریکی وزیر خزانہ

مزید خبریں

ایک ایسے موقع پر جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور گریٹا تھن برگ کے درمیان خفگی میں قدرے کمی آئی ہے، امریکی وزیر خزانہ، اسٹیون منوشن نے جمعرات کے روز گوبل وارمنگ پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والی اس سرگرم کارکن کے خلاف بیان دیا ہے۔

ڈیوس میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران جب ان سے روایتی ایندھن کے بارے میں گریٹا کے بیان پر رد عمل معلوم کیا گیا، تو اسٹیون منوشن نے کہا کہ ’’کیا وہ چیف اکانومسٹ ہیں؟ میں حیران ہوں۔ جب وہ معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج میں داخلہ لیں گی اور تعلیم مکمل کر لیں گی، تب وہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے ہم سے رابطہ کریں‘‘۔

دو روز قبل ڈیوس کے اسکیئنگ کے لیے شہرت رکھنے والے صحت افزا مقام پر منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ٹرمپ اور گریٹا تھن برگ نے اپنے کلمات میں بالواسطہ ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایک ٹریلین درخت لگانے کی مہم میں شرکت کا عزم ظاہر کر چکا ہے، جس پر تھن برگ نے کہا کہ موسمیاتی بحران پر محض درخت لگا کر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

تاہم، ڈیوس سے روانہ ہوتے ہوئے جب ٹرمپ نے یہ کہا کہ میری خواہش تھی کہ تھن برگ کو بولتے ہوئے سنوں، تو ایسے لگا جیسے امریکی صدر گریٹا سے تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اظہار کیا ہو۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ مؤقف کے بارے میں منوشن نے کہا کہ امریکی پالیسی کو ’’غلط رنگ دیا گیا ہے‘‘۔

بقول ان کے، ’’امریکی پالیسی کی غلط تعبیر کی گئی۔ میں واضح کردوں: درحقیقت، صدر ٹرمپ صاف ہوا، شفاف پانی اور صاف ماحول میں یقین رکھتے ہیں‘‘۔

بعد ازاں، منوشن نے سی این بی سی کو بتایا کہ آب و ہوا کی بدحالی پر قابو پانے میں ابھی محض چند سال باقی نہیں ہیں۔

انسانی تہذیب کو محض کوئی ایک خطرہ لاحق نہیں، اس ضمن میں بہت سے دیگر اہم عوامل سامنے ہیں۔

بقول ان کے، ’’میرے خیال میں، نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ آب و ہوا صرف ایک معاملہ ہے جسے دیگر کئی عوامل کے تناظر میں دیکھنا ہو گا‘‘۔

تاہم، تھن برگ کا دفاع کرتے ہوئے، جرمن چانسلر آنگلہ مرکیل نے کہا کہ آب و ہوا سے متعلق پیرس معاہدے کے اہداف کا حصول بہت اہم ہے، جس سے امریکہ علیحدہ ہو چکا ہے۔

Loading...

Comments are closed.