حاملہ خواتین کے لیے امریکی ویزے کے نئے قواعد نافذ

مزید خبریں

حاملہ خواتین کے ویزے سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کے روز نئے قواعد کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسی خواتین کو امریکہ آنے سے روکنا ہے جو محض امریکی شہریت کی خاطر یہاں آ کر بچے کو جنم دیتی ہیں۔

ایسی درخواست دہندگان کو اس وقت تک سیاحت کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، جب تک وہ یہ ثابت نہ کریں کہ طبی بنیادوں پر ان کا امریکہ جانا ضروری ہے؛ اور یہ کہ ان کے پاس درکار رقم موجود ہے، نہ یہ کہ بچے کے پاسپورٹ کے حصول کی خاطر وہ بچہ پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری، اسٹیفنی گرشام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امیگریشن کے اس نقص کو ختم کرنے سے اس کے مستقل غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، اور آخرکار اس روایت کے نتیجے میں امریکہ کے لیے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مداوا کیا جا سکے گا‘‘۔

بقول ان کے ’’اس کے نتیجے میں امریکی ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی ہوئی دولت کا غلط استعمال روکا جا سکے گا جو رقم بچے کی پیدائش سے متعلق سیاحت پر اٹھنے والے اخراجات پر خرچ ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی، امریکی شہریت کی حرمت کا دفاع ممکن ہو گا‘‘۔

جب کہ بنیادی طور پر امریکہ کا سفر کر کے بچہ پیدا کرنا ایک قانونی عمل تھا، جب کہ چند معاملوں میں حکام کی جانب سے ’برتھ ٹورزم‘ ویزے کی دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری کے زمرے میں شمار کی جاتی رہی ہے۔

ویزے کی درخواست دیتے ہوئے، خواتین اکثر و بیشتر اپنے ارادے کا ایمانداری سے برملا اظہار کرتی ہیں، جب کہ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی دستخط شدہ دستاویز تک پیش کرتی ہیں۔

نئے ضابطوں کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ ’’نہیں سمجھتا کہ امریکی شہریت کے حصول کے بنیادی مقصد کے لیے، عرف عام میں بچہ جننے کی سیاحت، کسی طور پر سکون کی حامل یا تفریحی نوعیت کا جائز عمل ہے‘‘۔

جمعرات کو شائع ہونے والے یہ نئے قواعد و ضوابط جمعے کے روز سے فیڈرل رجسٹر کا حصہ بن جائیں گے۔

بچہ جننے کی سیاحت کے ان نئے قواعد کا تعلق زیادہ تر چین اور روس سے آنے والے سیاحوں سے ہے۔

ادھر، سرحد پر غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت کارروائی کے نتیجے میں امریکہ میکسیکو سرحد پر حاملہ خواتین کو واپس کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل خواتین کے ہمراہ آنے والے چھوٹے بچوں کو داخل ہونے کی اجازت دی جاتی رہی تھی، جب کہ پناہ کے خواہش مند لاکھوں افراد کو یہ کہتے ہوئے میکسیکو لوٹا دیا گیا، کہ وہ اپنی باری کا انتظار کریں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ہر قسم کی امیگریشن کو محدود کرنے میں کوشاں رہی ہے۔ لیکن، پیدائشی شہریت کے معاملے نے اسے خاص طور پر پریشان کر رکھا تھا۔ آئین کے مطابق، امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اس ملک کا شہری تصور ہوتا ہے۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر نے اس روایت کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن، دانشوروں اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا اتنا آسان نہیں۔

نئی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین کو خطرہ لاحق ہو گا۔

قونصلر سطح کے اہل کار کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ ویزے کے اجرا کے انٹرویو کے وقت کسی خاتون سے یہ دریافت کریں آیا وہ حاملہ ہیں یا حاملہ ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لیکن، پھر بھی انھیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ویزے کی درخواست دینے والی خاتون کے امریکہ جانے کا بنیادی مقصد بچہ جننا تو نہیں ہے۔

Loading...

Comments are closed.