صدر ٹرمپ نے کوئی قابل مواخذہ جرم نہیں کیا، وائٹ ہاؤس وکلا

مزید خبریں

اِن دنوں جبکہ ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے مواخذے کے منیجرز سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے خلاف کیس پیش کر رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کی طرف سے جارحانہ انداز میں دفاع کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کسی بھی قسم کے قابل مواخذہ جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ لہذا، انہیں ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔

ڈیموکریٹک ارکان کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ ان کے سیاسی مخالف جو بائیدن اور ان کے بیٹے ہنٹر کے خلاف تحقیقات کا اعلان کریں اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے یوکرین کیلئے امریکی کانگریس سے منظورہ شدہ فوجی امداد روک لی تھی، تاکہ یوکرین کے صدر ان کے دباؤ میں آ کر ویسا ہی کریں جیسا وہ چاہتے تھے۔

تاہم، وائٹ ہاؤس کےاعلیٰ ترین قانونی مشیر، پیٹ سیپولون کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی یہ دلیل قانونی طور پر کمزور اور یکطرفہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ صدر نے قطعاً کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور مواخذے کی شقیں آئین میں طے کردہ معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی ان شقوں سے زیادہ کچھ ثابت نہیں کر سکیں گے۔

ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے سینیٹ میں پہلے تین دن کی سماعت کے دوران صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون گفتگو کی تفصیل پیش کرتے ہوئے سینیٹروں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ صدر ٹرمپ کا اقدام ان کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور کانگریس کی کارروائی میں مداخلت پر مبنی تھا۔ لہذا، انہیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا جانا چاہیے۔

ایوان نمائندگان کی طرف سے کیس پیش کرنے والے کلیدی ڈیموکریٹک رکن ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے ملک عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے وعدے کی بنیاد پر قائم ہوئے اور ایک ایسے صدر کی وفاداری کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئے جو حقیقتاً، بادشاہ بننے کا خواہشمند ہو‘‘۔

صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم ہفتے کے روز اپنے ابتدائی دلائل دینا شروع کرے گی جو تین دن تک جاری رہیں گے۔ صدر ٹرمپ مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کے ساتھ بات چیت کے دوران کوئی سودے بازی نہیں کی اور ان کے وکلا بھی اس بنیاد پر ان کا دفاع کر رہے ہیں۔

فلاڈیلفیا کی ایک لا فرم بلارڈ سپاہر کے قانونی ماہر ولیم میک ڈینئل کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا دفاع بظاہر اسی دلیل پر مبنی ہے کہ جو کچھ میں نے کیا وہ کوئی بڑا جرم نہیں ہے اور اگر یہ ایسا ہے بھی تو یہ مجھے عہدے سے برطرف کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔

ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیسا اقدام بڑے جرم یا چھوٹے جرم کی زد میں آ سکتا ہے جو مواخذے کی بنیاد بن سکے۔ وہ امریکی آئین کے متعلقہ الفاظ پر بھی غور کر ہے ہیں۔ اس ٹرائل کا نتیجہ مستقبل کے صدور کیلئے ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹینیسی کی وینڈر بلٹ یونیورسٹی کے جیمز بلم سٹائن کہتے ہیں کہ دائرےکو وسیع کرنا دانشمندانہ نہیں ہو گا، جس سے ہر وہ بات جرم بن جائے جسے آپ پسند نہ کرتے ہوں۔ اور شاید یہ کہنا بہت نازک معاملہ ہو گا کہ آپ نے واقعی خلاف ورزی کی۔ ایسا کرنے کیلئے کوئی ایسا جرم موجود ہونا ضروری ہے جو قابل مواخذہ ہو۔ تاہم، اس کا انحصار دلائل دینے پر اور سینیٹرز اور بالآخر امریکی عوام کو قائل کرنے پر ہے۔

صدر ٹرمپ کے وکلا ڈیموکریٹک ارکان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں کافی ثبوت پیش نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ صدر ٹرمپ کے مواخذے کی دوسری شق کے حوالے سے دفاع کر رہے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے انتظامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کو شہادت دینے سے روک رہے تھے۔ ملارڈ سپاہر کے ولیم میک ڈینئل کا کہنا ہے کہ بہت سے حوالوں یہ پہلی شق کی طرح ایک سخت الزام ہے، کیونکہ بنیادی طور پر اس میں کانگریس سے کہا گیا ہے کہ میں صدر کی حیثیت سے جو کچھ بھی کرتا ہوں آپ اس کے بارے میں تحقیقات نہیں کر سکتے۔ چونکہ میں آپ کو کوئی معلومات نہیں دوں گا، کوئی شخص بھی شہادت نہیں دے گا اور آپ یہ بالکل جان نہیں پائیں گے کہ کیا ہوا تھا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے شہادت نہ دینے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر جان بولٹن نے یہ بتا دیا کہ میں کسی لیڈر کے بارے میں کیا سوچتا ہوں تو کیا ہو گا؟ یہ کوئی مثبت بات نہیں ہو گی اور مجھے یہ سب اپنے وطن کی طرف سے کرنا پڑتا ہے۔

دونوں فریقین کی طرف سے اپنے ابتدائی دلائل مکمل کر لینے کے بعد اگلے ہفتے سنیٹرز کے پاس اپنے سوالات کیلئے 12 گھنٹے ہوں گے۔ اس کے بعد ووٹنگ کا ایک اور مرحلہ ہو گا جس میں طے کیا جائے گا کہ کیا مزید شہادتیں طلب کرنے کی ضرورت ہے۔

Loading...

Comments are closed.