ٹرمپ کے وکلا کا استدلال

مزید خبریں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا نے ہفتے کے روز مواخذے کے مقدمے میں دلائل کا آغاز کیا۔ انھوں الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس اس بات کے کوشاں ہیں کہ 2016ء کے انتخابات کے نتائج الٹ دیے جائیں۔

انھوں نے استدعا کی کہ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کے ساتھ برتے گئے رویے کی چھان بین میں لگائے گئے الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جب کہ سیاسی بنیاد پر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں عہدہ صدارت سے ہٹایا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے وکیل، پیٹ سپولون نے سینیٹروں کو بتایا کہ ”کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ثابت کیا جائے کہ انتخابات میں بڑی سطح کی مداخلت کی گئی، جو امریکی تاریخ کا ایک بہت بڑا الزام ہے۔ لیکن، یہ درست نہیں۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے”۔

ہفتے کو ایوان کی نشست میں ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے دلائل پیش کیے، جن کا مقصد ان الزامات کی نفی کرنا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تفتیش سے متعلق یوکرین سے بات کر کے صدر نے اختیارات سے تجاوز کیا اور جب کانگریس نے چھان بین شروع کی تو انھوں نے کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔

صدارتی اختیارات کا وسیع تر احاطہ کرتے ہوئے، صدر کے وکلا جارحانہ دفاع پیش کرتے رہے، جب کہ ان کے سیاسی مخالفین کی یہ کوشش رہی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ نومبر کے انتخابات میں دوبارہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

سپولون نے کہا کہ وہ (ڈیموکریٹس) اپنی مرضی چلاتے ہوئے ”کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں ملنے والے ووٹ پھاڑ کر پھینک دیے جائیں”۔

حالانکہ ٹرمپ کا مقدمہ جاری ہے، ان کی دفاعی ٹیم نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مواخذے کے مقدمے کو تفتیش کے جاری عمل کا محض ایک تسلسل ثابت کریں، جس کے ذریعے مخالفین عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی صدر کا پیچھا کرتے رہے ہیں؛ جس میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ ان کو فائدہ دلانے کے لیے روس نے انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

ٹرمپ کے اٹارنی، جے سکولو نے اپنھے دلائل میں کہا کہ ڈیموکریٹس یوکرین کے معاملے پر صدر کی اس لیے چھان بین کرنا چاہتے ہیں، چونکہ وہ پچھلے الزام میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے کہ انتخابات میں روس نے مداخلت کی۔

سکولو نے اسپیشل کونسل، رابرٹ مولر کی رپورٹ لہراتے ہوئے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پھر سے تفتیش کا عمل شروع ہو۔

بقول ان کے، ”یہ رپورٹ جھوٹ کا پلندہ ہے، جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ 2016ء کی ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم اور روس کے مابین تعلقات کی تفصیل گھڑی جائے۔ لیکن، اس میں کسی طور پر، انتخاب جیتنے کی سازش کا مجرمانہ الزام ثابت نہیں ہوا”۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کے وکیل ایڈم ‘شفٹی’ شیف، ‘روندو’ چک شومر، ‘پریشان حال’ نینسی پیلوسی اور ‘بائیں بازو کے قدامت پسندوں’ کی جانب سے لگائے گئے غلط الزامات کا جواب دے رہے ہیں۔ ان کے مخالفین نے دھوکہ دہی، غلط کاری کے الزامات لگائے ہیں۔ جنھیں ہم مسترد کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے وکلا نے دو گھنٹے تک اپنے دلائل جاری رکھے؛ اور بتایا کہ باقی دلائل پیر کے روز دیے جائیں گے۔

امکان اس بات کا ہے کہ سینیٹ صدر کو بری کر دے گی، چونکہ ایوان میں ری پبلیکن پارٹی کے ووٹ 53 ہیں، جب کہ ڈیموکریٹ سینیٹروں کی کل تعداد 47 ہے۔ جرم ثابت ہونے اور عہدہ صدارت سے ہٹائے جانے کے لیے دو تہائی ووٹ درکار ہوں گے۔

ری پبلیکن سینیٹر پہلے ہی ٹرمپ کو بے گناہ قرار دینے کے لیے بے چینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز اپنے بیان میں وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے مقدمے کو بیکار قرار دیا ہے۔

ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹروں نے آج کے دلائل کے بعد، ٹرمپ کے وکلا سے ہاتھ ملایا۔

Loading...

Comments are closed.