چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 100 سے تجاوز، جرمنی میں بھی پہلا کیس رپورٹ

مزید خبریں

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ وائرس دیگر ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور پیر کو جرمنی نے پہلے کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق چین میں کرونا وائرس سے جہاں ہلاکتیں ہو رہی ہیں وہیں چین کی معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

چین میں مختلف سفری پابندیوں اور ملکی کرنسی یوآن کی قدر میں کمی کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورت حال پر تاجر پریشان ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس سے ایک شخص کی موت واقع ہوئی ہے جب کہ سرکاری اخبار ​’پیپلز ڈیلی’ کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 106 ہو گئی ہے جب کہ اس وائرس سے 4193 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہے۔

جرمنی کے محکمہ صحت نے پیر کی شب تصدیق کی ہے کہ ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ محکمہ صحت نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی البتہ بتایا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

امریکہ اور کینیڈا نے اپنے شہریوں کے لیے سفری وارننگ جاری کر دی ہیں۔

پیر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی شہریوں کو چین کا سفر کرنے سے قبل ‘سوچنا’ چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے بہت کم کیسز امریکہ میں رپورٹ ہوئے ہیں تاہم ہم اسے دیکھ رہے ہیں اور چین سے قریبی رابطے میں ہیں۔ اُن کے بقول، "ہم نے چین کے صدر شی جن پنگ کو ضروری مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ ہمارے ماہرین غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔”

یاد رہے کہ امریکہ میں اب تک پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور حکام نے مزید 100 افراد کے ٹیسٹ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا نے بھی اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین کے صوبے ہوبئی کے سفر سے گریز کریں۔

کینیڈا میں بھی دو افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 19 شہریوں میں اس وائرس کی موجودگی کو جانچا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ چین کے صوبے ہوبئی کا شہر ووہان کرونا وائرس کا مرکز بتایا جاتا ہے جہاں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

چین کی حکومت نے ووہان میں رہنے والے افراد کو شہر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جب کہ ووہان جانے والی تمام پروازیں اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔

چین کے وزیرِ اعظم لی کی چیانگ نے بھی پیر کو متاثرہ شہر کا دورہ کیا تھا اور کرونا وائرس سے نمٹنے والے میڈیکل ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں مزید سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

چین میں نئے قمری سال کے آغاز پر لاکھوں لوگ ایک صوبے یا شہر سے دوسرے مقامات کا سفر کرتے ہیں جب کہ بیرونِ ملک بھی سفر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور چین پر مختلف سفری پابندیوں کی وجہ سے متعدد چینی شہریوں نے بیرون ملک سفر منسوخ کر دیا ہے۔

حکومت نے نئے قمری سال کے آغاز پر ایک ہفتے کی تعطیلات کا اعلان کیا تھا تاہم اب اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور نئے سال کی تعطیلات اب دو فروری تک جاری رہیں گے۔

Loading...

Comments are closed.