’’میرے پاس تم ہو‘‘ جیسی شہرت اور دعائیں پورے کیریئر میں نہیں ملیں، ہمایوں سعید

ہمایوں سعید نے بیرون ممالک مقیم شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے نہ صرف ڈراما دیکھا بلکہ اسے پسند بھی کیا فوٹوفائل

مزید خبریں

کراچی: اداکار ہمایوں سعید نے ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی شہرت اور لوگوں سے ملنے والی ڈھیروں محبت اور دعاؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ہدایت کار و مصنف خلیل الرحمان قمر کے ڈرامے’’میرے پاس تم ہو‘‘ نے وہ شہرت حاصل کی ہے کہ اس کا شماربلا شبہ پاکستان کی تاریخ کے یادگار ڈراموں میں کیا جائے گا۔ ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان، حرا مانی اورعدنان صدیقی  نے مرکزی کردار نبھائے ہیں۔ ڈرامے کے مصنف اوراداکاروں سمیت پوری ٹیم کو لوگوں نے خوب پیار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مہوش کا کردار کوئی بھی ادا کرنا نہیں چاہتا تھا

ہمایوں سعید نےسوشل میڈیا پر ڈرامے کی غیر معمولی کامیابی اور لوگوں سے ملنے والی محبتوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ میں آپ سب نے جتنا پیاردیا اور جتنی دعاؤں سے نوازا اس کے لیے بے حد شکریہ۔ ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘کی کامیابی پر جتنی دعائیں مجھے ملیں اتنی مجھے میرے پورے کریئر میں نہیں ملیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’’میرے پاس تم ہو‘‘کا آخری سین لکھتے ہوئے رورہا تھا، خلیل الرحمان قمر

ہمایوں سعید نے پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک مقیم شائقین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے نہ صرف ڈراما دیکھا بلکہ اسے پسند بھی کیا اور کہا کہ آپ کی محبتوں نے اس ڈرامے کو بلاک بسٹر بنایا۔ یہ صرف میری یا میری ٹیم کی کامیابی نہیں ہے بلکہ ہماری پوری ڈراما اورفلم انڈسٹری کی کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’دانش جانتا تھا سکون صرف قبر میں ہے‘

واضح رہے کہ ڈراماسیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی غیر معمولی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس کی آخری قسط سینمامیں ریلیز کی گئی تھی جسے دیکھنے شائقین کی بہت بڑی تعداد پہنچی۔ تاہم ڈرامے کے مرکزی کردار دانش (ہمایوں سعید)کی موت نے جہاں شائقین کو جذباتی کیا وہیں بہت سے لوگ ڈرامے کے اختتام سے مطمئن نظر نہیں آئے۔

Loading...
2 Comments
  1. Tanda Wasir Awal

    Tanda Wasir Awal

    ’’میرے پاس تم ہو‘‘ جیسی شہرت اور دعائیں پورے کیریئر میں نہیں ملیں، ہمایوں سعید – Urdu Khabrain

  2. Obat Ambeien Apotik

    Obat Ambeien Apotik

    ’’میرے پاس تم ہو‘‘ جیسی شہرت اور دعائیں پورے کیریئر میں نہیں ملیں، ہمایوں سعید – Urdu Khabrain

Comments are closed.