صدر ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت جمعے کو ختم ہونے کا امکان

مزید خبریں

امریکی سینیٹ کے ایک ریپبلیکن سینیٹر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت میں شہادت دینے کے لیے کسی گواہ کو بلانے کی ضرورت نہیں رہی، چونکہ ڈیموکریٹس نے پہلے ہی ٹرمپ کے اقدامات کو ’’نامناسب‘‘ قرار دیا ہے، لیکن ’’یہ قابل مواخذہ نہیں ہیں‘‘۔

ریپبلیکن سینیٹر لمار الیگزینڈر نے جمعرات کے دن ایک بیان میں کہا کہ ’’مزید ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی، چونکہ جو بات ثابت کرنے والی تھی وہ پہلے ہی ثابت ہو چکی ہے، اور وہ یہ ہے کہ امریکی آئین میں مواخذے کے جرم سے متعلق جو معیار مقرر ہے، سماعت کی یہ کارروائی اس پر پوری نہیں اترتی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’آئین سینیٹ کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صدر کو عہدے سے ہٹائے اور اس سال ہونے والے انتخابات میں ان کی شرکت پر بندش عائد کر دے، صرف ایسے اقدامات کی بنیاد پر جو نامناسب نوعیت کے ہیں‘‘۔

نئی شہادتوں اور دستاویز کی اجازت دینے کے معاملے پر رائے دہی کے لیے جمعے کے دِن سینیٹ کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چک شومر نے خبردار کیا کہ نئے ثبوت کی اجازت نہ دینے سے امریکی آئین کا نصب العین پورا نہیں ہوگا، جس میں حکومت کی تین شاخوں میں اختیارات کی تقسیم وضع کی گئی ہے۔

شومر نے سوال کیا، ’’کیا میرے ریپبلیکن ساتھی اس مقدمے میں شہادتوں اور دستاویز کی اجازت دینے سےانکار کریں گے؟ ہم سب کو پتا ہے کہ وہ پھر یہی کچھ کریں گے اور کانگریس کچھ نہیں کر سکے گی۔ وہ اپنے انتخاب کے دوران پھر سے دھوکہ دیں گے، یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری جمہوریت کی جڑیں اکھاڑ رہی ہے‘‘۔

شومر نے اس جانب دھیان مبذول کرانے کی کوشش کی کہ نئے ثبوت پیش کرنے کے خلاف ووٹ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹرمپ کے بری ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی، جس بات کا ریپبلیکن اکثریت والے اس ایوان میں شروع ہی سے امکان تھا، جب گزشتہ سال ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔

شومر کے بقول، ’’اگر میرے ریپبلیکن ساتھی مقدمے میں ثبوت اور دستاویز پیش کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو صدر کو بری قرار دینا بے معنی ہوگا، چونکہ یہ مسخ شدہ مقدمے کا نتیجہ ہو گا ‘‘۔

ریپبلیکن پارٹی کی ایک اور اہم سینیٹر نے سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت میں گواہان پیش کرنے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ڈیموکریٹس کی مزید شہادتوں کی گنجائش کمزور پڑ گئی ہے، اور اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ ٹرمپ بری ہوجائیں گے۔

ادھر، سینیٹر لیزا مرکوسکی نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انھوں نے مواخذے کی سماعت میں ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر گواہان اور دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت پر ہوش مندی سے غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گی۔

مرکوسکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف لگائے گئے الزامات عجلت میں سامنے لائے گئے ہیں، جن میں غلطیاں موجود ہیں، اور یہ کہ ’’میرے کچھ ساتھی‘‘ اس بات کے خواہاں تھے کہ اس عمل کو مزید سیاست کے نذر کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’’جانبداری پر مبنی مواخذے کی سماعت شروع سے ہی یک طرفہ رہی ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ سینیٹ میں معاملے کا منصفانہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ عمل جاری رکھنے سے کسی بات کا فرق پڑے گا۔ میرے لیے یہ افسوس ناک امر ہے، اور میں یہ تسلیم کرتی ہوں کہ بطور ایک ادارہ، کانگریس ناکام ہوچکی ہے‘‘۔

اس سے قبل، آج ہی کے روز، ڈیموکریٹس نے مایوسی کا اظہار کیا کہ شاید وہ مزید گواہان نہ لا سکیں، انھیں چار ریپبلیکن سینیٹروں کی ضرورت پڑے گی تاکہ نئے ثبوت اور شہادت کے معاملے پر رائے دہی میں کامیاب ہوسکیں۔

پیٹی مُرے، جو سینیٹ میں ڈیموکریٹک قیادت کی ایک رکن ہیں، اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’آج رات، امکان اسی بات کا ہے کہ مواخذے سے بچ کر صدر بری ہوجائیں‘‘۔

آج سینیٹ کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کے نمائندگان، جو استغاثے کا کردار ادا کررہے ہیں، اس بات پر زور دیا کہ ضرورت بات کی ہے کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر، جان بولٹن کو گواہ کے طور پر پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے پر جمعے ہی کے روز سینیٹ میں رائے دہی ہوگی آیا گواہان کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کی اکثریت رکھنے والے سینیٹ سے مزید گواہان کی طلبی کی منظوری نہ ملنے کا امکان ہے۔

غالب امکان یہی ہے کہ بہت جلد صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی منطقی انجام تک پہنچ جائے گی اور سینیٹ کثرت رائے سے اُنہیں تمام الزامات سے بری کر دے گی۔

Loading...

Comments are closed.