خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات میں برطانیہ یورپی یونین سے جدا

مزید خبریں

برطانیہ نے یورپی یونین سے تقریباً نصف صدی تک وابستہ رہنے کے بعد جمعے کی رات بلآخر راہیں جدا کر لی ہیں۔ برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق جیسے ہی رات کے 11 بجے، بریگزٹ کے حامیوں نے ملک بھر میں جشن منایا۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے رفاقت 47 برسوں پر محیط رہی جس کے خاتمے پر بریگزٹ کے کچھ مخالفین افسردہ دکھائی دیے۔

لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر پر ہزاروں افراد جمع تھے جنہوں نے برطانیہ کے پرچم تھامے ہوئے تھے۔ جوں ہی گھڑی نے گیارہ بجائے مجمع نے خوشیاں منائیں اور قومی ترانہ گایا۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اختتام نہیں، بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے بریگزٹ کو یورپی یونین کے ساتھ دوستانہ تعاون کا آغاز قرار دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بریگزٹ سے چند گھنٹوں قبل جاری کردہ بیان میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگوں کے لیے یہ امید کا حیران کن لمحہ ہے۔ وہ سوچتے تھے کہ یہ وقت کبھی نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ کئی لوگ ایسے بھی ہوں گے جو پریشانی اور افسردگی محسوس کر رہے ہیں۔ میں یہ تمام احساسات سمجھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ حکومت کے طور پر ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان کے بقول میرا کام یہ ہے کہ میں اس ملک کو ایک ساتھ آگے لے کر چلوں۔

اس سے قبل جمعے کی شام بیلجئم کے دارالحکومت برسلز میں واقع یورپی کونسل اور یورپی پارلیمان کی عمارتوں پر لگے برطانیہ کے پرچم کو بھی اتار دیا گیا تھا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کا سفر

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فی صد عوام نے علیحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔ جس پر کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے اُس وقت کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا کیوں کہ وہ خود یورپی یونین میں رہنے کے حامی تھے۔

بعد ازاں کنزرویٹو پارٹی کی رکن تھریسامے نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور بریگزٹ کے معاملے پر ناکامی کی صورت میں انہوں نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا تھا۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے بورس جانسن نے نئے انتخابات کا اعلان کیا اور دسمبر 2019 میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے 365 نشستیں حاصل کیں۔

اس سے قبل کنزرویٹو پارٹی کے پاس 650 کے ایوان میں 317 نشستیں تھی جب کہ سادہ اکثریت کے لیے اسے 326 ارکان کی ضرورت تھی۔

بورس جانسن نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اسمبلی سے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ حاصل کیے اور 31 جنوری کو باضابطہ طور پر یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

Loading...

Comments are closed.