دو عشرے قبل کلنٹن نے تقریباً انہی حالات میں خطاب کیا تھا

مزید خبریں

دو عشرے قبل صدر بل کلنٹن کو مواخذے کا سامنا تھا، جب انھوں نے قوم سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے اپنے 78 منٹ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایک بار بھی ”میں” کا لفظ ادا نہیں کیا تھا۔

اب اُس جیسی ہی صورت حال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ قوم سے خطاب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مزید برآں، انھیں صدارتی انتخاب کا بھی دباؤ درپیش ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ ایوان میں تقریر کرتے ہوئے وہ کلنٹن کی طرح درپیش مسئلے کو نظرانداز کر پائیں گے، خاص طور پر اس صورت میں جب امکان یہی ہے کہ خطاب کے ایک روز بعد انھیں بریت مل سکتی ہے۔

ایسے ہی خلفشار کے ماحول میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کرنے والے ٹرمپ پہلے صدر نہیں ہوں گے۔ ابراہم لنکن نے خانہ جنگی کے دور میں تحریر کردہ تقریر کی تھی، جب کہ رچرڈ نکسن نے تب خطاب کیا تھا جب وہ واٹرگیٹ اسکینڈل میں الجھے ہوئے تھے۔ اُس وقت، جیرالڈ فورڈ نے کہا تھا کہ ”یونین کی حالت ٹھیک نہیں ہے”۔ لیکن، 1999ء کے خطاب میں کلنٹن نے ایک مشابہ مثال دی تھی۔

سال 1998ء کے دسمبر میں ری پبلیکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان نے کلنٹن کا مواخذہ کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کی انٹرن، مونیکا لونسکی کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر گرینڈ جیوری کے سامنے دروغ گوئی سے کام لیا اور انصاف میں رکاوٹ ڈالی تھی۔

جب کلنٹن نے اپنا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب مکمل کیا، تب وائٹ ہاؤس کے وکلا نے سینیٹ کے روبرو مقدمہ لڑنے کے لیے اپنا کیس تیار کیا تھا۔

انھوں نے دلیل دی تھی کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں وہ بے گناہ ہیں، ”انھیں عہدے سے نہیں ہٹایا جانا چاہیے”۔

کلنٹن نے اُسی چیمبر سے خطاب کیا جہاں چند ہی ہفتے قبل ان کا مواخذہ ہوا تھا۔

ان کے خطاب پر انھیں تعظیم دے کر تالیاں بجائی گئی تھیں، حالانکہ چند ریپبلیکنز نے ان کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ کلنٹن کا کانگریس کے سامنے آنا مناسب نہیں، ایسے وقت میں جب انھیں مواخذے کی سماعت کا سامنا ہے۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ان کے دو سخت ناقدین شامل تھے جن میں ایوان نمائندگان کے اکثریتی جماعت کے قائد ڈِک آرمی، جن کا تعلق ٹیکساس سے تھا اور ٹیکساس ہی کے ایوان نمائندگان کے اکثریتی جماعت سے تعلق رکھنے والے وہپ ٹام ڈلے تھے۔ تقریر کے دوران، وہ ان کے ساتھ بے جان لگے بیٹھے تھے۔

کلنٹن کے اسپیچ رائٹر، مائیکل والڈمین نے کہا ہے کہ انھیں یاد نہیں ہے کہ 1999ء کے خطاب سے پہلے تک تقریر کے بارے میں ان کی کلنٹن سے کوئی بات ہوئی تھی کہ آیا انھیں مواخذے کی سماعت کے بارے میں کچھ کہنا ہو گا۔

والڈمین نے کہا کہ ”اس پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی”۔ وہ اِس وقت نیو یارک یونیورسٹی کے اسکول آف لا میں برینن سینٹر فور جسٹس کے سربراہ ہیں۔

بقول ان کے، ”خطاب میں ان کا ہدف صرف یہی تھا کہ لوگوں کو پالیسی ایجنڈا سے متعلق باتیں بتائیں، جن کی انھیں فکر ہے اور جو باتیں انھیں پسند ہیں؛ اور عوام کو یاد دہانی کرائیں عہدہ صدارت کی اُن خوش کُن باتوں کے بارے میں جن کے وہ قائل رہے ہیں”۔

کلنٹن کا سارا زور اِسی پر تھا کہ وہ عوام کو یہ بتائیں کہ گزشتہ 15 برس کے دوران ان کی معاشی پالیسی کامیاب رہی ہے، جس میں چار ٹریلیں ڈالر کی بچت ہو گی، تاکہ سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر کے اخراجات کی بہتر ادائیگی کی جا سکے گی۔

ریپبلیکنز نے اس دعوے کی مزاحمت کی اور برعکس اس کے ٹیکس میں رعایت دینے کا مطالبہ کیا۔

درحقیقت، کلنٹن نے پارٹی کی جانب سے اتنی زیادہ تجاویز پیش کیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے میساچیوسٹس سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز، جوزف ماکلے نے کہا تھا کہ ”ماسوائے اسٹیچو آف لبرٹی کے لیے نیا لباس خرید کر دینے کے، انھوں نے باقی تمام باتیں کر ڈالیں”۔

Loading...

Comments are closed.