آئیووا کاکس کے نتائج تاخیر کا شکار

مزید خبریں

ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے اپنے امیدوار کے انتخاب کا پہلا مرحلہ یعنی آئیووا کاکس مکمل ہو گیا ہے لیکن کاکس کے نتائج کا اعلان تاحال نہیں ہوسکا ہے۔

پیر کو امریکہ کی ریاست آئیووا میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے 1600 مختلف مقامات پر رجسٹرڈ ووٹروں کے اجلاس ہوئے تھے جس کے لیے اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز، مساجد، گرجا گھروں اور دیگر عوامی مقامات کا انتخاب کیا گیا تھا۔

آئیووا کاکس کو ڈیموکریٹ اور ری پبلکن – دونوں بڑی جماعتوں کے صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کا پہلا مرحلہ قرار دیا جاتا ہے۔

کاکس امریکی انتخابات کا ایک عمل ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے حامی کسی جگہ جمع ہو کر اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کی پالیسیوں پر بحث کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں رائے دیتے ہیں۔

پیر کو پوری ریاست آئیووا میں کاکس کے لیے طے شدہ مقامات پر ووٹرز کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ لوگوں کے رش کی وجہ سے کئی مقامات پر کاکس اجتماعات کی میزبانی کرنے والی عمارتوں کے دروازے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے بند کر دیے گئے تھے۔

آئیووا کاکس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات سے موصول ہونے والے نتائج کو مرتب کیا جا رہا ہے اور نتائج کے اعلان میں تاخیر کی وجہ گنتی کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔

ریاست آئیووا میں ڈیموکریٹ پارٹی کی ترجمان مینڈی میکلور کا کہنا ہے کہ نتائج کو جمع کرنے کے لیے تیکنیکی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب تک موصول ہونے والے تمام نتائج کو پرکھ رہے ہیں اور پر امید ہیں کہ موصول ہونے والے تمام نمبرز درست ہوں گے۔

ترجمان نے اس تاثر کی تردید کی کہ آئیووا کاکس کے لیے استعمال کی جانے والی ایپلی کیشن تیکنیکی مسائل کا شکار ہوئی یا اسے ہیک کیا گیا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ انتخابی نتائج کی رپورٹنگ میں بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے 10 سے زائد امیدوار صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہیں جن میں آئیووا کاکس کے دوران سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ریاست ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

کاکس سے قبل ریاست آئیووا میں ہونے والے رائے عامہ کے بیشتر جائزوں میں سینیٹر برنی سینڈرز کو جو بائیڈن پر سبقت حاصل تھی۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان آئندہ چند ماہ کے دوران تمام ریاستوں میں کاکس یا پرائمری طریقۂ انتخاب کے ذریعے امیدوار کا چناؤ کریں گے۔ حتمی صدارتی امیدوار کا اعلان جولائی میں ہونے والے نیشنل کنونشن میں ہو گا۔

کامیاب ڈیمو کریٹ امیدوار رواں برس تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کریں گے جو مسلسل دوسری مدتِ صدارت کے لیے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں۔

Loading...

Comments are closed.