خواتین کے فٹبال کھیل کو فروغ دینے کیلیے سنجیدگی درکار

فٹبال کھیلنے کے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں، سحر، محدود بجٹ میں کام کررہے ہیں ،فیڈریشن

مزید خبریں

کراچی:  فٹ بال کا شمار دنیا کے چند مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے اور مردوں کے فٹ بال کی طرح دنیا کے بیشتر ممالک خواتین کے فٹ بال کھیل کو بھی فروغ اور ترقی دینے کے لیے دن رات کوشاں نظر آتے ہیں تاہم دوسری جانب پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو شاید یہ معلوم بھی نہیں کہ ملک میں خواتین کی فٹ بال ٹیم ہے۔

اس حوالے سے ایکسپریس سے بات چیت میں خواتین کی قومی خواتین فٹ بال چیمپئن شپ میں ٹاپ اسکور کرنے والے سحر زمان نے بتایا کہ ہم نے اپنی زندگی کے 10 سال اس کھیل کو دیے، ہم نے اپنے شوق کی وجہ سے اس کھیل کو چنا، اور اب بھی لوگ ہمیں حیرت سے دیکھتے ہیں جب ہمیں انھیں خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے بارے میں بتاتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ خواتین کا فٹ بال کھیل کوئی مذاق نہیں ہے، خواتین اس کھیل میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک طویل وقت صرف کرتی ہیں اور اس سے کہیں زیادہ توجہ کی مستحق ہیں کہ جو حال ہی میں قومی خواتین فٹ بال چیمپیئن شپ کی صورت میں دیکھنے میں ایا جس کا اختتام گزشتہ ماہ کی 12 تاریخ کو کراچی میں ہوا۔

خواتین کا کوئی بھی کھیل ہو اسے محض رسمی طور پر نہیں لیا جانا چاہیے جیسا کہ پاکستان فٹ بال فیڈریشن نے 2010 سے خواتین کے فٹ بال کے حوالے سے اپنا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ مردوں کے فٹ بال کی صورت حال دیکھیں تو انہیں ہر سال پانچ ماہ لیگ کھیلنے کو ملتی ہے، اس کے علاوہ چیلنج کپ، ڈویژن بی لیگ، دوستانہ دورے، اور کبھی کبھار کے بین الاقوامی فٹ بال کے دورے بھی شامل ہوتے ہیں۔ دوسری جانب خواتین کے فٹ بال کھیل کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔

سحر زمان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورت حال کے باوجود کچھ مثبت باتیں بھی ہیں۔ سحر زمان کو واپڈا کی جانب سے کھیلتی ہیں انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں چیمپیئنز لیگ میں واپڈا کی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی جب سیمی فائنل میں اسے آرمی کی ٹیم نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی۔ سحر کا کہنا تھا کہ انھیں فٹ بال کھیلنے کے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں، خواتین کی فٹ بال ٹیم کو مزید میچز دیے جائیں۔ بہت ساری باصلاحیت لڑکیاں اس کھیل میں ہیں اور پاکستان فٹ بال فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ ان لڑکیوں کو مواقع فراہم کرے۔ واضح رہے کہ سحر زمان ٹورنامنٹ کے دوران 27 گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر تھیں۔چیمپئین شپ جیتنے والی خواتین آرمی فٹ بال ٹیم کی کپتان ملکہ کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پورے اسپورٹس نظام کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے۔

دوسری جانب پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سیکریٹری حارث جمیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کمیٹی ایک محدود بجٹ میں رہتے ہوئے اپنا کام کررہی ہے اور ابھی کوئی ٹھوس پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی۔

Loading...

Comments are closed.