کشمیر اٹوٹ انگ یا بڑی سی جیل؟

مزید خبریں

امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے کہا ہے کہ ’’بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کو بڑی سی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے‘‘۔ ادھر، بی جے پی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور ایک دہشت گرد ریاست کو اس میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں‘‘۔

واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان میں پانچ فروری کا دن پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں‘‘۔

بقول ان کے ’’اس سال یوم یکجہتی کشمیر کا دن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس دن بھارت کے پانچ اگست کو کیے گئے اقدامات کو چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ اس نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کی، کشمیر میں کرفیو نافذ کیا اور اسے بہت بڑی جیل بنا دیا ہے‘‘۔

اسد مجید خان نے کہا کہ پاکستان میں پاکستانی عوام کو اور امریکہ میں پاکستانی امریکیوں اور کشمیری امریکیوں کو ایک بار پھر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔ ’’ان کی آواز بنیں اور ان پر جو ظلم و زیادتی روا رکھی جا رہی ہے، اسے ختم کرانے کے لیے اس ملک میں جہاں جہاں وہ آواز اٹھا سکتے ہیں، وہاں آواز اٹھائیں۔‘‘

ادھر نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے یوم یکجہتی کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی مرضی کا بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہمارا موقف واضح ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور پاکستان نے اس کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہم نے بارہا پاکستان سے کہا ہے کہ ان علاقوں کو خالی کرے۔ دوسرے ملکوں کے شہریوں کی پروا کرنے کے جھوٹے مظاہرے کے بجائے پاکستان کو چاہیے کہ اپنے زیر انتظام علاقوں میں دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے اور اپنے غیر قانونی قبضے میں موجود کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مظالم بند کرے۔

دوسری جانب، بی جے پی کی ترجمان، شینا نینا نے کہا ہے کہ پاکستان کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی بات کرنے کے بجائے پہلے اپنے گھر میں جھانکنا چاہیے۔ بقول ان کے، ’’اُن کے ہاں، دہشت گردی پھیل رہی ہے اور وہ دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ دے رہے ہیں۔ وہ لوگ جو سازشی نظریات پھیلا رہے ہیں، یکجہتی کی بات کرتے ہیں یا یہ کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ ہیں، وہ کبھی ان کے ہمدرد نہیں تھے‘‘۔

ترجمان کے بقول،’’پاکستان کو اس میں دخل کا کیا حق ہے جو ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ وہ دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت کر رہا ہے اور ہمیں بھاشن دے رہا ہے کہ جیسے ہم کچھ غلط کر رہے ہیں۔ ہم کچھ غلط نہیں کر رہے‘‘۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.