پٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری آسان، ریفائنریوں کو ٹیکس چھوٹ ملے گی

او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کھلے اور شفاف طریقے سے ایل پی جی فروخت کریںگی،عمرایوب، ندیم بابر،فردوس عاشق۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مزید خبریں

 اسلام آباد:  وفاقی حکومت نے پٹرولیم کے شعبہ میں چند کمپنیوں کی مناپلی ختم کرکے اس شعبہ میں سرمایہ کاری آسان بنانے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر،وفاقی وزیرعمرایوب اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک سے سرخ فیتے کے فرسودی نظام ختم کرکے کاروبار کو آسان بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 5ریفائنریاں کام کررہی ہیں جن میں تین بڑی ریفائنریاں ہیں، پرانی ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے کے لیے منگوائی جانے والی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ اب یہ چھوٹ نئی ریفائنری کے قیام کے لیے بھی حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ایگزون ، مٹسو بشی سمیت 5 غیر ملکی کمپنیاں ایل این جی ٹرمینلز لگانا چاہتی ہیں ۔معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر چھ ماہ میں 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سسٹم میں شامل کی ہے، سردیوں میں گیس کی کمی نہیں ہوگی۔گیس کا بل 48 گھنٹے میں پہنچانا ہوگا اور 15 دن بعد تک ادائیگی کرنا ہوگی۔ تیل و گیس کی تلاش،ریفائنریوں ، تیل و گیس ذخیرہ کرنے ، پائپ لائنوں کی تعمیر ،ایل پی جی اور ایل این جی کے شعبوں میں پالیسی اصلاحات کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔

تیل اور گیس کی تلاش میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف اداروں سے منظوری لینے کا عمل  24محکموں سے کم کرکے14 تک محدود کردیا گیا ہے، بعض شعبوں میں کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا۔نئے پٹرول پمپس کے قیام کے لیے منظوری 17 کے بجائے 6سے 7 جگہ سے لی جائے گی۔

نئی ایل پی جی پالیسی کا اگلے مہینے اعلان کردیا جائے گا ، قیمتوں کے تعین کا بھی طریقہ کار بنے گا۔ایل این جی کے صنعتی صارفین کو 30دن کے اندر گیس کنکشن ملے گا۔

تیل و گیس کی تلاش کے لیے کم از کم24 اور عمومی طور پر 30 کے قریب منظوریاں درکار ہیں ،ملک میں گیس کی پیداوار کم ہو رہی ہے پچھلے 6 ماہ میں 25 سو بیرل یومیہ تیل اور 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی دریافت حاصل ہوئی ہے، اگلے مہینے مزید 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔

Loading...

Comments are closed.