پاکستانی طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا فوجی حراست سے فرار؟

مزید خبریں

پاکستان میں فوج کی تحویل میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں وہ پاکستان فوج کی حراست سے فرار ہونے کا بتا رہے ہیں۔

احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار کی اطلاع گزشتہ ماہ ایک بھارتی اخبار سنڈے گارجئین میں آئی تھی۔ لیکن، پاکستان فوج کی جانب سے اس خبر کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تھا۔

حالیہ آڈیو بیان سامنے آنے کے بعد اس بارے میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا گیا۔ تاہم، وہاں سے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

احسان اللہ احسان کے آڈیو بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی حراست سے 11 جنوری کو فرار ہو گئے تھے۔ ایسا کیونکر ممکن ہوا اس حوالے سے احسان اللہ احسان نے کچھ نہیں بتایا۔

دو منٹ اور دو سیکنڈ کی اس آڈیو کا آغاز تلاوت سے ہوتا ہے اور وہ اپنا نام بتا کر کہتے ہیں کہ ان کا سابقہ تعلق تحریک طالبان اور جماعت الاحرار سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کیا تھا۔ لیکن، بقول ان کے، ’’پاکستان کے مکار خفیہ اداروں نے معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجھے میرے بچوں سمیت قید کر دیا تھا۔ میں نے تین سال تک معاہدے کی پاسداری کی اور قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 11 جنوری 2020 کو میں فوج کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ کیا معاہدہ ہوا تھا۔ کس کی اجازت سے ہوا۔ نکات کیا تھے۔ کس شخصیت نے ہمیں امن کی ضمانت دی تھی۔ پاکستان میں کس حال میں رکھا گیا اور کیا کیا ہم سے کہلوایا گیا۔ پاکستانی ادارے ہم سے مزید کیا کروانا چاہتے تھے۔ ان کے منصوبے کیا ہیں۔ اور پاکستان فوج کے وہ منصوبے جن کا میں چشم دید گواہ ہوں، ان سے پردہ اٹھانا اب ضروری ہو گیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں جلد ان تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کروں گا۔ ساتھ ہی اپنے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بھی آگاہ کروں گا‘‘۔

احسان اللہ احسان یہ تفصیلات کب فراہم کریں گے اس حوالے سے انہوں نے وقت کا کوئی تعین نہیں کیا اور جلد آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آواز احسان اللہ احسان کی لگتی ہے، سلیم صافی

اس آڈیو ٹیپ کے حوالے سے احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرنے والے سینئر صحافی اور جیونیوز کے اینکر سلیم صافی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کامن سینس کی بنیاد پر بظاہر یہ آواز احسان اللہ احسان کی ہی لگ رہی ہے۔ لیکن، تکنیکی بنیادوں پر کیا کچھ ہو سکتا ہے اس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘۔

سلیم صافی نے کہا کہ جب میں نے ان کا انٹرویو کیا تو آئی ایس پی آر والے مجھے ساتھ لے گئے تھے اور میں نے انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو میں زیادہ تر باتیں وہی تھیں جو احسان اللہ احسان نے بیان کی صورت میں جاری کی تھیں۔ پہلے یہ انٹرویو روک دیا گیا بعد ازاں عدالت کی مداخلت پر یہ انٹرویو نشر ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’’احسان اللہ احسان فرار ہوا ہے یا نہیں اس بات کی تصدیق وہی کر سکتے ہیں جن کی وہ تحویل میں تھا۔ اس بارے میں بھارتی اخبار میں خبر بھی آئی اور ہم نے جب فوجی حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے ’نو کمنٹس‘ کا کہا۔ اگر وہ انہی کی تحویل میں ہوتا تو کہہ دیتے کہ خبر جھوٹی ہے۔ لیکن اس کی تردید نہیں کی گئی اور اب یہ آڈیو بیان سامنے آیا ہے جو بادی النظر میں احسان اللہ احسان کا ہی ہے‘‘۔

احسان اللہ احسان کون ہے؟

احسان اللہ احسان پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے علاقے مہمند ایجنسی کے رہنے والے ہیں۔ اپریل 2017 میں پاکستان فوج کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے اعلان کیا کہ احسان اللہ احسان نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کا ایک ویڈیو بیان ٹی وی چینلز کو جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق، ان کا اصلی نام لیاقت علی ہے۔

اپنی ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان میں 2008 میں شمولیت اختیار کی۔ احسان اللہ احسان نے اپنی اعترافی ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے فنڈ مہیا کرتی ہے۔

احسان اللہ احسان سال 2013 تک کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ترجمان رہا تھا۔ احسان اپنے تحریک طالبان پاکستان کے بعض سابق کمانڈر کے ساتھ اس گروپ سے الگ ہو گئے اور انھوں نے جماعت الاحرار کے نام سے اپنا نیا دھڑا بنا لیا تھا۔ احسان اللہ احسان کو اس نئے دھڑے کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے 70 سے 80 فی صد کمانڈر اور جنگجو جماعت الاحرار میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان میں سب سے معروف عمر خالد خراسانی تھا۔

احسان اللہ احسان کے خلاف عدالتی کارروائی

احسان اللہ احسان اگرچہ تین سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں رہا۔ لیکن، اس کے خلاف کیا کیس بنائے گئے اور کیا کچھ کارروائی ہوئی اس حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔

احسان اللہ احسان قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں بھی نامزد ملزم تھا کیونکہ اس نے اس حملے ذمہ داری قبول کی تھی۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی وجہ سے پشاور ہائی کورٹ میں مئی 2017 میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں فضل خان ایڈوکیٹ نے عدالت سے درخواست کی کہ احسان اللہ احسان نے آرمی پبلک سکول پر حملے سمیت متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس لیے اسے سخت سزا دی جائے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے اور مقدمہ فوجی عدالت میں سنا جائے۔ فضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جس طرح احسان اللہ احسان کو میڈیا پر پیش کیا گیا اس سے انھیں ایسا لگا کہ شاید حکومت احسان اللہ احسان کو رہا کرنے کا سوچ رہی ہے۔

فضل خان ایڈووکیٹ کے بیٹے عمر خان آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے اور 16 دسمبر 2014 کو شدت پسندوں کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

فضل خان نے درخواست کی کہ احسان اللہ احسان کو ایک مفکر کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا جس پر انھیں تشویش ہوئی اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ حکومت کو پابند کیا جائے کہ احسان اللہ احسان کو رہا نہ کیا جائے بلکہ پابند سلاسل رکھا جائے۔

یہ درخواست تقریباً آٹھ ماہ تک زیر سماعت رہی جس کے بعد 13دسمبر 2017 کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ نے حکومت پر پابندی عائد کر دی کہ وہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو رہا نہیں کر سکتی اور کہا تھا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات مکمل کی جائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کو عدالتی حکم کے بغیر رہا نہ کیا جائے اور حکومت اس بارے میں تفصیلی فیصلے سے بھی آگاہ کرے۔ اس کیس میں حکومت کی طرف سے ایک سطری جواب دیا گیا تھا کہ ’’احسان اللہ احسان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں‘‘۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.