’اٹلی اور لیبیا کا تارکین وطن کو روکنے کا معاہدہ مجرموں کی مدد کرتا ہے‘

مزید خبریں

انسانی حقوق کے گروپس نے اٹلی پر لیبیا کے ساتھ اس معاہدے کی توسیع پر سخت تنقید کی ہے جو تارکین وطن کی ان حراستی مراکز میں واپسی آسان بناتا ہے، جہاں بقول تارکین وطن کے، اذیت رسانی اور آبرو ریزی کے واقعات عام ہیں۔

یورپی یونین لیبیا کو اپنے ساحل کی حفاظت کی صلاحیت بہتر کرنے اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے لاکھوں ڈالر بھیج چکی ہے، لیکن انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ وہ رقم آخر کار مجرموں کے گروہوں تک پہنچ رہی ہے۔

گھانا کے ایک تارک وطن احدی بلادوزی نے اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے بتایا کہ لیبیا کے اغواکاروں نے کس طرح ان کے ہاتھوں کی ہڈیوں کو توڑا۔ 27 سالہ احدی بلادوزی نے 2015 میں گھانا کو چھوڑا تھا۔ لیبیا پہنچنے کے بعد انہیں اغوا کیا گیا اور انسانی اسمگلروں کے ہاتھ بیچ دیا گیا، جنہوں نے اس کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا۔

احدی نے بتایا کہ اس وقت میرے پاس رقم نہیں تھی، اس لیے انہوں نے مجھ سے یہ کہتے ہوئے کہ میں اپنے والدین کو رقم کے لیے ٹیلی فون کروں، مجھے روزانہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ انہوں نے میرے پورے جسم کی پٹائی شروع کر دی۔ انہوں نے مجھے اتنا مارا کہ میں نے اپنی والدہ کو فون کیا اور میری ماں نے گھانا کے 1500 سیڈے یعنی 270 امریکی ڈالر بھیجے۔ اور وہ پیسے بھیجے جا چکے تھے پھر بھی انہوں نے مجھے بری طرح مارا پیٹا، میرا ہاتھ دیکھیں، یہ ٹوٹ گیا ہے۔

گھانا کے تارک وطن احدی بلادوزی کو یورپ پہنچنے میں چار سال لگے اور اس نے 1200 امریکی ڈالر اور ایک اسمارٹ فون دے کر ربڑ سے بری طرح سے لدے ایک بحری جہاز پر اپنے لیے جگہ خریدی۔ انہیں ایک امدادی ادارے اوشن وائکنگ کے ایک ریسکیوشپ نے بچایا۔

یورپی یونین لیبیا کو بحیرہ روم کے پار سے آنے والے تارکین وطن کے ریلوں کو روکنے کی کوشش کے لیے 328 ملین سے زیادہ یوروز لیبیا بھیج چکی ہے جس کا بیشتر حصہ اقوام متحدہ کے اداروں کے توسط سے دیا گیا۔ یورپی یونین لیبیا کے ساحل کی حفاظت کے لیے فنڈز دیتی ہے جن کا مقصد انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی بیخ کنی بھی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ2013 سے لیبیا پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد اپنی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، لیکن نقاد کہتے ہیں کہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے ایک آئرش رکن کلارے ڈیلےکہتے ہیں کہ پانیوں میں پھنسی کشتیوں کا پتا چلانے والے یورپی یونین کے اسپوٹر طیارے لیبیا کی کوسٹ گارڈ سے رابطہ کر چکے ہیں جو، ملیشیاؤں کو فرار ہونے والے لوگوں کو راستے میں روکنے اور انہیں دوبارہ واپس بھیجنے اور ان کی اسمگلنگ کی اجازت دے رہی تھی۔ ہم انسانی حقوق کے بارے میں تشویش کی بات کرتے ہیں اور یہ قطعی طور پر دو رخی اور منافقت ہے۔ ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔

جولائی میں ایک حراستی مرکز پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں 40 سے زیادہ تارکین وطن کی ہلاکت کے بعد ان خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ تارکین وطن لیبیا کی خانہ جنگی کا ہدف بن سکتے ہیں۔

اٹلی اس ہفتے طرابلس کے ساتھ 2017 کے اس معاہدے کو تین سال کے لیے توسیع دینے پر رضامند ہو چکا ہے جو تارکین وطن کی ان حراستی مراکز میں واپسی آسان بناتا ہے جہاں اقوام متحدہ کے عہدے داروں کے بقول، قیدیوں کو اکثر مارا پیٹا جاتا ہے، ریپ کیا جاتا ہے اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ماتیو دی بیلس کہتے ہیں کہ ہمیں لیبیا کی کوسٹ گارڈ کی جانب سے سمندر میں مزید تین سال کی دراندازیوں کی توقع کرنا ہو گی، تین مزید سال لوگوں کو ان خوفناک حراستی مراکز میں قید کی حالت میں اور یورپ کو مزید تین سال دوسری جانب کو یہ جھوٹے دعوے کرتے دیکھنا ہوگا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا، صرف اس لیے کہ وہ ان لوگوں کو یورپ آنے سے روکنے میں مدد کر رہا ہے۔

تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اوشن وائکنگ گزشتہ ہفتے صرف تین دن میں 400 سے زیادہ تارکین وطن کو اغوا کاروں سے چھڑوا چکا ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا میں حراستی مراکز کی فنڈنگ میں شامل نہیں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں تارکین وطن کے حالات بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.