والدین کی خدمت و فرماں برداری

دنیا اور آخرت میں مصائب و مُشکلات سے نجات چاہتے ہو تو اطاعت والدین کو شعار بناؤ
۔ فوٹو: فائل

مزید خبریں

اسلام کو جو صفات مطلوب ہیں ان میں والدین کی اطاعت بھی شامل ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اطاعت ایسے کام ہیں کہ اﷲ رب العزت بھی اس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی تزکیۂ نفس ہے۔ آپ کتنے ہی بڑے آدمی بن جائیں‘ والدین کے لیے آپ وہی ہیں جو کبھی چھوٹے ہوا کرتے تھے۔ آپ کی ہر ایک ادا سے والدین خوش ہوتے تھے۔ آپ کی والدہ نے آپ کو کس طرح پالا پوسا‘ یہ وہی جانتی ہے۔ وہ رات کو جاگ کر بچے کو دودھ پلاتی ہے۔ ذرا سا بیمار ہوئے وہ ساری رات کرب میں گزارتی ہے۔ اب تم بڑے ہوگئے ہو‘ سکول سے کالج اور پھر جامعہ پہنچ گئے، ڈگری مل گئی پھر اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگئے اور اب والدین بیٹے پر فخر کر رہے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ نے والدین کے حوالے سے کچھ آداب اور اصول بتا دیے کہ جس طرح صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی عبادت کی جائے گی‘ اسی طرح والدین کے ساتھ احسان کیا جائے گا۔ اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہیں کہنا، نہ ہی انہیں جھڑکنا ہے۔ ان کے ساتھ بڑی نرمی سے گفت گُو کرنا ہے۔ والدین کے سامنے محبت سے جھک کر ان کے لیے دعائیں کرنا ہیں کہ اے میرے رب ان پر رحم کر‘ جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم کیا اور میری تربیت کی ہے۔ایک شخص نے اﷲ کے رسولؐ سے دریافت کیا: اﷲ کے رسولؐ! بتائیے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے پھر پوچھا: اس کے بعد؟ تو ارشاد ہوا: ’’تیری ماں‘‘ اس نے پھر پوچھا: اﷲ کے رسولؐ! اس کے بعد کون ہے؟ آپؐ نے پھر ارشاد فرمایا: ’’تیری ماں‘‘ چوتھی مرتبہ ارشاد ہوا: ’’تیرا باپ‘‘

والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بے شمار واقعات ہیں مگر ایک مؤثر واقعہ میرے سامنے ہے۔ ایک بوڑھا باپ اپنے پچیس سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی۔ نوجوان اٹھا‘ دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی شخص نظر آیا۔ اس کے چہرے پر کرختگی اور ناراضی کے آثار تھے۔ سلام نہ دعا‘ وہ سیدھا اندر چلا آیا۔ نوجوان کے والد کے چہرے پر پریشانی کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس آدمی نے آتے ہی اس بوڑھے سے کرخت لہجے میں کہا: ’’ میرا قرض واپس کرو۔ اگر تم نے فی الفور قرض واپس نہ کیا تو تمہارے لیے بہت بُرا ہوگا۔‘‘نوجوان نے اپنے والد کے پریشان چہرے کو دیکھا تو اسے بڑا دُکھ ہوا۔ اجنبی شخص اب بدتمیزی پر اتر آیا تھا۔ نوجوان نے تھوڑا سا صبر کیا پھر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، وہ اپنے والد کی توہین برداشت نہ کرسکا۔ اس نے پوچھا: بتاؤ میرے والد نے تمہارا کتنا قرض ادا کرنا ہے۔ اس نے کہا: تمہارے والد نے میرے نوّے ہزار ریال دینے ہیں۔ نوجوان کہنے لگا: اب تم نے میرے والد کو کچھ نہیں کہنا، بس اب یہ قرض میرے ذمے رہا، تم کوئی فکر نہ کرو۔ بیٹا اپنے کمرے میں گیا۔ وہ کافی عرصے سے اپنی شادی کے لیے پیسے جمع کررہا تھا۔ اس کی ہونے والی دلہن اس کا انتظار کررہی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے ستّائیس ہزار ریال جمع کیے تھے۔

بس تھوڑی سی رقم مزید باقی تھی اور پھر اس نے اپنی دلہن کو گھر لے آنا تھا۔ میں اپنے والد کی توہین برداشت نہیں کرسکتا‘ شادی پھر بھی ہوسکتی ہے‘ اس نے سوچا اور ستّائیس ہزار ریال لاکر اس شخص کی جھولی میں ڈال دیے۔ فی الحال یہ ستّائیس ہزار ریال پکڑو۔ باقی رقم کے بارے میں فکر نہ کرو‘ جلد ہی تمہیں مل جائے گی۔ اس دوران نوجوان کا والد رونے لگا۔ یہ خوشی کے آنسو تھے کہ میرا بیٹا اتنا فرماں بردار ہے۔ باپ قرض خواہ سے کہنے لگا: یہ ستّائیس ہزار میرے بیٹے کو واپس کردو۔ اس نے بڑی محنت سے اپنی شادی کے لیے یہ رقم جمع کی ہے۔ اس کا میرے قرض سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ اب نوجوان کی باری تھی۔ اس نے قرض خواہ سے کہا: یہ رقم اپنے پاس رکھو‘ میں باقی قرض بھی ان شاء اﷲ جلد ہی تمہیں دے دوں گا۔ پھر نوجوان اٹھا اور اپنے والد کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہنے لگا: بابا آپ کی عزت‘ آبرو‘ مرتبہ اور مقام اس رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ فکر نہ کریں‘ ہر چیز کا وقت مقرر ہے‘ میں بہت جلد اس کا قرض واپس کردوں گا۔

بوڑھے نے فرط مسرت سے اپنے فرماں بردار بیٹے کو گلے لگایا اور روتے ہوئے دعائیں دینے لگا: میرے بیٹے اﷲ تم سے راضی ہو جائے‘ تمہیں عزت، رفعت اور کام یابیاں عطا فرمائے۔ اس نے اپنے ہاتھ آسمانوں کی طرف اٹھا دیے اور رو رو کر اﷲ کے حضور اپنے بیٹے کے لیے بہت ساری دعائیں کیں۔ بیٹا بڑا ہی متّقی، پرہیزگار اور فرماں بردار تھا۔ اﷲ رب العزت کا وعدہ ہے کہ وہ متّقی انسان کو بہترین بدلہ عطا فرماتے اور وہاں سے رزق عطا فرماتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ایک یا دو دن کی بات ہے کہ نوجوان اپنی ملازمت پر گیا‘ وہ اپنے کام میں مشغول تھا کہ اس کا ایک پرانا دوست ملنے کے لیے آگیا۔ سلام دعا کے بعد اس کا دوست کہنے لگا: میں کل شہر کے بڑے تاجر کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے پاس ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ اس بڑے منصوبے کے لیے اسے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو نیک اور ایمان دار ہو، اعلیٰ اخلاق والا‘ اﷲ کا خوف رکھنے والا ہو اور اس کے ساتھ اس کام کو بھی خوب سمجھتا ہو۔ اس نے مجھ سے کہا: مجھے اس منصوبے کے لیے مذکورہ صفات کا حامل شخص درکار ہے۔ میرے ذہن میں فوراً تمہارا خیال آگیا۔

میں تمہیں ایک مدت سے جانتا ہوں۔ میں نے اس تاجر کے سامنے تمہارا ذکر کیا اور کہا: تمہارے اندر یہ ساری صفات موجود ہیں تو اس نے کہا ہے کہ میری اس سے ملاقات کراؤ۔ لہذا تمہیں لینے آیا ہوں تاکہ تم اس تاجر سے ملاقات کرلو۔ ہوسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے لیے رزق کثیر کے دروازے کھول دے۔ نوجوان کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھا اور کہنے لگا: کل میرے والد نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کی تھیں‘ لگتا ہے اﷲ تعالیٰ نے میرے والد کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا ہے۔ حدیث رسولؐ ہے: ’’باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے۔‘‘ اس کے بعد دونوں دوست اس تاجر کے دفتر میں جا پہنچے۔ تاجر نے اس نوجوان کا انٹرویو لیا۔ اس نے دیکھا کہ یہ نوجوان اس منصب کے لیے مناسب ترین ہے۔ اس کی تعلیم اور تجربہ بھی کام کے مطابق ہے۔ وہ اس نوجوان سے ملاقات کرکے بہت مطمئن ہوا۔ اس نے پوچھا: ’’تمہاری اس وقت تن خواہ کتنی ہے؟ نوجوان نے سچ بتا دیا کہ میری حالیہ تن خواہ اتنے ریال ہے۔

وہ تاجر کہنے لگا: تم کل سے ابتداء کرسکتے ہو، تمہاری تن خواہ پندرہ ہزار ریال مقرر کی جاتی ہے، اس کے علاوہ تمہیں سیل پر کمیشن بھی ملے گا جو حسن کارگردگی کی بنا پر دس فی صد تک جاسکتا ہے، ‘ مکان کا کرایہ‘ نئے ماڈل کی گاڑی اور چھے ماہ کی پیشگی تن خواہ بھی تمہیں مل جائے گی تاکہ تم اپنے گھریلو حالات درست کر سکو۔ بولو کیا تمہیں منظور ہے۔ اس نوجوان نے یہ ساری پیش کش سنی تو بے اختیار رونے لگا اور بار بار کہنے لگا: ’’اے میرے والد گرامی آپ کو مبارک ہو۔‘‘ تاجر اسے دیکھ رہا تھا‘ اس نے سوال کیا کہ تمہارے رونے کی وجہ کیا ہے؟ تب نوجوان نے دو دن پہلے ہونے والا سارا واقعہ بیان کیا کہ میرا والد مقروض تھا، قرض خواہ والد کو تنگ کر رہا تھا، کس طرح اس نے ستّائیس ہزار ریال قرض واپس کیا اور بقیہ کا وعدہ کیا۔ تاجر اس نوجوان کی اپنے والد کے ساتھ محبت‘ ایثار اور قربانی سے اتنا متاثر اور خوش ہوا کہ کہنے لگا کہ تم نے ستائیس ہزار ریال اپنے والد کے قرض کے طور پر ادا کیے ہیں‘ اب باقی قرض میں ادا کروں گا۔بہ ظاہر تو یہ واقعہ بڑا محیر العقل ہے مگر اﷲ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اس لیے کہ نیکوکار فرماں بردار بندوں کے لیے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے کہ جہاں سے انسان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔

جاہم بن عباسؓ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں: اﷲ کے رسولؐ غزوہ میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپؐ کی خدمت میں مشورہ کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ اﷲ کے رسولؐ نے دریافت فرمایا: کیا تمہاری ماں زندہ ہے۔ جاہمؓ عرض کرتے ہیں کہ ہاں وہ زندہ ہیں۔ کائنات کے امامؐ نے ارشاد فرمایا: جاؤ اپنی والدہ کی خدمت کرو کہ جنّت اس کے قدموں تلے ہے۔والدین کی خدمت اور دعائیں انسان کے لیے مصائب و مشکلات سے نجات کا باعث بنتی ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں اور ان کی دعائیں لیں تاکہ دنیا و آخرت میں کام یاب ہوسکیں۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.