مواخذے کی تفتیش میں ٹرمپ کے خلاف بیان دینے پر دو اہل کار برطرف

مزید خبریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز امریکی سفیر برائے یورپی یونین، گورڈن سونڈلینڈ کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے، جنھوں نے مواخذے کی سماعت کے دوران ان کے خلاف شہادت دی تھی۔

ایک بیان میں سونڈلینڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انھیں فوری طور پر واپس بلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس اقدام سے چند ہی گھنٹے قبل محافظوں کی مدد سے الیگزینڈر ونڈمین کو وائٹ ہاؤس کمپلیکس سے باہر نکال دیا گیا۔ وہ قومی سلامتی کے معاون تھے، جنھیں شاندار فوجی خدمات کے عوض تعریفی تمغہ عطا کیا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے کہا ہے کہ ”سچ بولنے کی سزا” کے طور پر ونڈمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ایک بیان میں اٹارنی، ڈیوڈ پریسمین نے کہا ہے کہ ”سچ بولنے کی وجہ سے لیفٹیننٹ کرنل الیگزینڈر ونڈمین کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ان کا کیریئر ختم ہو گیا اور ان کی رازداری متاثر ہوئی”۔

فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ونڈمین کے جڑواں بھائی، لیفٹیننٹ کرنل ییجنی ونڈمین کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ وائٹ ہاؤس کے وکیل تھے، جنھیں جمعے کے روز نئی تعیناتی کے احکامات ملے کہ ان کی فوج میں نئی تقرری کر دی گئی ہے۔

الیگزینڈر ونڈمین کے وکیل نے دو صفحات پر مشتمل ایک بیان جاری کرتے ہوئے ٹرمپ کی جانب سے اپنے موکل کے خلاف ”بدلہ لیے جانے” کے اقدام کا الزام لگایا ہے۔

پریسمن نے بتایا کہ ”انھوں نے وہی کچھ کیا جو ہماری فوج فرائض کی انجام دہی میں ہر روز کرتی ہے، یعنی وہ احکامات بجا لائے۔ انھوں نے اپنے حلف اور ملک سے وفاداری کی، جب کہ ایسا کرتے وقت یہ ڈر لاحق تھا کہ اس عمل کے ذاتی نوعیت کے اثرات نکل سکتے ہیں”۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے پریسمین کے الزامات کا جواب سامنے نہیں آیا۔

نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان، جان الیوٹ نے کہا ہے کہ ”ہم ذاتی نوعیت کے معاملات سے متعلق بیان بازی نہیں کیا کرتے”۔

ونڈمین وائٹ ہاؤس میں بیرونی پالیسی کی اس برانچ سے منسلک ماہر تھے جس کا تعلق یوکرین سے تھا۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.