پیٹ بٹیجج اور برنی سینڈرز پر حریفوں کی سخت تنقید

امریکہ کی ریاست نیو ہمپشر میں جمعے کو آٹھواں ڈیمو کریٹ مباحثہ ہوا ہے۔ صدارتی امیدواروں کے انتخاب کی دوڑ میں شامل ڈیمو کریٹ ارکان نے آئیووا کاکس میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں پیٹ بٹیجج اور برنی سینڈرز پر سخت تنقید کی ہے۔

پیٹ بٹیجج اور برنی سینڈرز پر ان کے حریفوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیمو کریٹس کو فتح نہیں دلا سکتے۔

نیو ہمپشر میں پرائمری ووٹنگ کا عمل صرف چار روز بعد منگل کو ہونا ہے۔ ایسے موقع پر جب ڈیمو کریٹ مباحثے کا آٹھواں میدان مانچسٹر میں سجا تو برنی سینڈرز اور پیٹ بٹیجج تنقید کی زد میں رہے۔

ڈیمو کریٹ ارکان نے جہاں برنی سینڈرز کے جمہوری سوشلسٹ نظریات پر سوالات اٹھائے وہیں پیٹ بٹیجج کو غیر تجربہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ نومبر میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں وہ جماعت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی سینیٹر اور صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کے مقابلے میں آنے کے خواہش مند برنی سینڈرز کی عمر 78 برس ہے جب کہ بٹیجج صرف 38 سال کے ہیں۔ دونوں نے آئیووا کاکس میں ابتدائی دو پوزیشنز حاصل کی تھیں۔ دونوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا تھا تاہم پیٹ بٹیجج پہلی پوزیشن پر آئے تھے۔

امریکی ریاست آئیووا میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹروں نے پیر کو کاکس کے ذریعے اپنے پسندیدہ صدارتی امیدوار کا انتخاب کیا تھا۔ جس کے لیے ریاست بھر میں 1600 مختلف مقامات پر ڈیموکریٹ ارکان کے اجلاس منعقد ہوئے تھے۔

کاکس امریکی انتخابات کا ایک عمل ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے حامی کسی جگہ جمع ہو کر اپنی جماعت کے امیدواروں کی پالیسیوں پر بحث کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں رائے دیتے ہیں۔

سابق نائب صدر جو بائیڈن جنہیں صدارتی انتخاب کے لیے ڈیمو کریٹ کا متوقع امیدوار قرار دیا جا رہا تھا، وہ آئیووا کاکس میں چوتھی پوزیشن حاصل کر سکے تھے۔ مانچسٹر میں جمعے کو مباحثے کے دوران وہ خاصےجارحانہ موڈ میں دکھائی دیے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے لیے انتخابی مہم میں برنی سینڈرز کو ہرانا بہت آسان کام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ برنی سینڈرز کو میں نے جمہوری سوشلسٹ نہیں کہا، وہ خود ہی اپنے آپ کو جمہوری سوشلسٹ قرار دیتے ہیں۔ اگر برنی ڈیموکریٹ کے صدارتی امیدوار ہوتے ہیں تو ٹرمپ ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہر شخص پر یہی لیبل لگائیں گے۔

صدارتی امیدوار کی انتخابی دوڑ میں شامل ایک اور امریکی سینیٹر ایمی کلوبچر نے کہا کہ سینڈرز امریکی ووٹرز کو متاثر نہیں کر سکیں گے۔

جو بائیڈن اور کلوبچر نے پیٹ بٹیجج کے تجربے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا بٹیجج کے پاس اتنا تجربہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کا سامنا کر سکیں۔ خیال رہے کہ پیٹ بٹیجج دو مرتبہ ساؤتھ بینڈ کے میئر رہ چکے ہیں

ٹام اسٹیئر نے کہا کہ بٹیجج غیر سفید فام ووٹرز کو متاثر نہیں کر سکتے جو انتخابی مہم جیتنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ ڈیمو کریٹک جماعت کے مختلف حصوں کو متاثر نہیں کر سکتے جن میں غیر سفید فام اور لاطینی امریکی بھی شامل ہیں، تو ہم نومبر میں صدر ٹرمپ کو شکست نہیں دے سکیں گے۔

بٹیجج نے جوابات دے کر اپنا دفاع کیا اور جب بٹیجج کے جوابات سے متعلق پوچھا گیا کہ کیا ان کے جوابات اطمینان بخش تھے؟ امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ "نہیں، آپ کو اعداد و شمار کے مطابق بات کرنی چاہیے تھی۔”

امریکہ میں یہ روایت رہی ہے کہ آئیووا کاکس میں جیتنے والا امیدوار نیو ہمپشر میں بھی آگے ہوتا ہے۔ لیکن آئیووا کاکس کے نتائج میں تاخیر کے تنازع کے بعد نیو ہمپشر کے پرائمری انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.