ایک امریکی شہری ہلاک، کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 722 ہوگئی

چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس میں مبتلہ ایک 60 سالہ امریکی ہلاک ہوگئے ہیں۔ بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ جن ینتان 6 فروری کو ووہان کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔

ساتھ ہی جاپان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نمونیا کی وجہ سے اسی اسپتال میں داخل ایک جاپانی شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ موت کا سبب کرونا وائرس ہی بتایا جاتا ہے؛ جب کہ اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

ادھر، امریکہ نے جمعے کے روز کرونا وائرس کے مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی امداد کی پیش کش کی ہے، تاکہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اس نئے مہلک وائرس کے نتیجے میں چین میں اب تک 722 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس کے نتیجے میں زیادہ تر ہلاکتیں چین میں ہوئی ہیں جب کہ یہ مرض دو درجن سے زائد ملکوں میں پھیل چکا ہے، جب کہ اطلاعات کے مطابق، فرانسیسی اسکی رزورٹ میں پانچ برطانوی شہریوں کو یہ وائرس لگ چکا ہے۔

سفارت خانے کے ایک اہلکار نے ہفتے کے روز بیجنگ میں رائٹرز کو بتایا کہ ہم ہلاک ہونے والے امریکی شہری کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

چین میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 722 ہو گئی ہے جب کہ ہانگ کانگ نے اپنے علاقے میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قرنطینہ نافذ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ہفتے کو چین میں کرونا وائرس سے 86 افراد ہلاک ہوئے۔ کرونا وائرس سے ایک دن میں ہلاکتوں کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ہفتے کو مزید کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ 35 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ چین کے علاوہ اب تک 30 ممالک میں کرونا وائرس کے 320 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ہانگ کانگ نے اپنے علاقے میں قرنطینہ نافذ کرتے ہوئے چین سے کسی بھی شخص کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو جیل اور جرمانے کی سزائیں بھگتنا ہوں گی۔

ہانگ کانگ میں ابب تک کرونا وائرس کے 25 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ خیال رہے کہ چین کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے ہانگ کانگ میں یہ وبا ہھیلنے کا خطرہ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔

ادھر کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان سمیت چین کے کئی شہروں میں لاک ڈاؤن جاری ہے جب کہ ہزاروں افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

ین کے صوبہ ہوبی میں گزشتہ دو ہفتوں سے لاک ڈاؤن ہے۔ ریلوے اسٹیشنز اور ایئر پورٹس بند اور سڑکیں سیل ہیں۔

جاپان میں ٹوکیو کے جنوب میں واقع بندرگاہ یوکوہاما میں بحری جہاز پر سوار 61 افراد میں بھی وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

امریکہ میں ووہان سے مزید 350 امریکی شہریوں کو چین سے نکال کر کیلی فورنیا کے دو فوجی اڈوں پر واقع قرنطینہ میں رکھا ہے۔

امریکہ سمیت دو درجن سے زیادہ فضائی کمپنیوں نے چین اور دیگر متاثر ممالک کے لیے پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔ چین میں دو ہفتوں سے کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

تائیوان نے گزشتہ 14 دن کے دوران چین میں مقیم غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی میں توسیع کر دی ہے۔

ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ماہرین اگلے ہفتے تک جنیوا میں اکھٹے ہوں گے تاکہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد ویکسین دریافت کی جاسکے۔

چین کی وزارت نیشنل ہیلتھ کے ایک بیان کے مطابق نائب وزیر خارجہ لی یوچینگ نے کہا ہے کہ چینی عوام وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور پُر امید ہیں کہ جلد یہ جنگ جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.