کرونا وائرس کے طریقۂ تشخیص میں تبدیلی، ہلاکتوں اور نئے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

مزید خبریں

چین میں کرونا وائرس کے طریقہ تشخیص میں تبدیلی کے بعد اس وائرس سے ہلاکتوں اور متاثرہ افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔

حکام نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی پر صوبہ ہوبئی میں کمیونسٹ پارٹی کے دو انتہائی اہم رہنماؤں کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

چین کے صوبے ہوبئی کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو کرونا وائرس سے 242 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو ایک روز میں ہلاک ہونے والے افراد کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1310 تک پہنچ چکی ہے جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کے مطابق جمعرات تک صرف ہوبئی میں 14 ہزار 840 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل یومیہ کیسز کی تعداد لگ بھگ 2015 تھی۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کرونا وائرس کے مرکز صوبہ ہوبئی میں اس وائرس سے نمٹنے کے لیے طریقہ علاج میں تبدیلی لائی گئی ہے جس کے بعد ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ ہوبئی کے حکام نے کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (سی ٹی) اسکین کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ تاہم اس سے قبل آر این اے ٹیسٹ کے ذریعے مریضوں میں کرونا وائرس کی جانچ کی جا رہی تھی۔

آر این اے یا ریبونیوکلک ایسڈ کے ذریعے مریض کے جینتیاتی معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں اور اس طریقے میں کافی وقت لگتا ہے۔

ہوبئی ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ سی ٹی اسکین کے ذریعے متاثرہ مریضوں کے پھیپھپڑوں میں انفکیشن کی جانچ کی جاتی ہے جس کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی ریکوری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

‘رائٹرز’ کے مطابق کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے آر این اے کے بجائے سی ٹی اسکین کے طریقہ تشخیص کے بعد اس وائرس سے ہلاکتوں اور متاثرہ مریضوں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سڈنی کے شعبہ بائیو سیکیورٹی ریسرچ کے سربراہ رئنا میک انٹائر کا کہنا ہے کہ "کرونا وائرس کی تشخیص کا نیا طریقہ کار ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی وضاحت کر سکتا ہے”

دوسری جانب ہوبئی کے شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد حکام نے دو مقامی رہنماؤں کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے صوبائی رہنما جیانگ چولیانگ ہوبئی پروونشل کمیٹی کے سیکرٹری تھے جنہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے جب کہ ووہان شہر کے پارٹی چیف ما گوئی کینگ کو بھی برطرف کیا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے دونوں رہنماؤں کو عہدوں سے ہٹائے جانے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ تاہم دونوں رہنما صوبے میں انتہائی اہم حیثیت رکھتے تھے۔

‘رائٹرز’ کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کے مذکورہ دونوں رہنماؤں کو عہدے سے ہٹائے جانے پر ہوبئی کے شہریوں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

یاد رہے کہ ووہان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ناکامی پر محکمہ صحت کے کئی حکام کو پہلے ہی ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔

Loading...

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.