پاکستان کا اصل امتحان

جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تو سیع کی ایک بڑی وجہ خطے کی سیکورٹی صورتحال ہے، فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں گرم جوشی دیکھی جارہی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف  جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تو سیع  کی ایک بڑی وجہ  خطے کی سیکورٹی  صورتحال ہے ۔

یہ دونوں معاملات افغانستان سے بھی جڑے ہوئے ہیں کیونکہ افغانستان میں امریکا اور افغان طالبان کےدرمیان بات چیت کے  ادوار اب ختم ہونے کے قریب ہیں  اور امن معاہدے کا قوی امکان ہے،  کہا جا رہا ہے کہ نوے فیصد معاملات طے ہو چکے ہیں اورتوقع کی جارہی ہے کہ باقی دس فیصدمعاملات بھی جلد طے پا جائیں گے پاکستان کا اصل امتحان امن معاہدے کے طے پاجانے کے بعد  شروع ہو گا۔ کیا پاکستان اس امتحان  کیلئے تیار ہے ؟

امن معاہدے کے بعد کی صورتحال پرکابل میں  نقطہ نظر  یہ ہے کہ بات چیت کے ان ادوار میں  افغان حکومت  اور افغانستان کے لوگوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور جلد سے جلد افغان عوام کو اس حوالے سے  اعتماد میں لیا جائے ۔ افغان حکومت کیلئے ایک بڑا مسئلہ اس امن عمل میں  اپنی ساکھ  کو برقرار رکھنابھی ہے کیونکہ طالبان قیادت نے اس مرحلے میں افغان حکومت کے مندوبین سے  ملنے سے بھی انکار کیا۔ طالبان قیادت ابھی تک افغان حکومت کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔ ممکنہ طور پر اس مرحلےکے بعد انٹرا افغان ڈائیلاگ  بھی ہو سکتا ہے ۔

افغانستان کو اس مرحلے کے بعد  مالی امداد کی بھی ضرورت ہو گی۔ بہت  سارے عناصر جو  ان مذاکرات  سے خوش نہیں وہ ان کو سبوتاز کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں ۔ کابل میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ پاکستان  کا افغان طالبان  پر اب بھی اثر و رسوخ ہے  اور اس معاہدے کے بعد پاکستان کے  پاس موقع ہے  کہ وہ ثابت کرے  کہ  وہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔

مزید خبریں

پاکستان کے پالیسی سازوں کے مطابق  افغانستان کی سیاسی قیادت  کو اس  معاہدے کے بعد امن عمل کی ذمہ داری اٹھانا  ہو گی اور اسے اپنانا ہو گا۔ پاکستان کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ آنے والے افغان صدارتی  انتخابات میں  پاکستان کا کوئی   بھی فیورٹ نہیں جسے بھی افغان عوام منتخب کرتے ہیں پاکستان اس کے ساتھ مل کر معاملات آگے بڑھانے کیلئے تیار ہے ۔

پاکستان کاکام افغان طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان  محض سہولت کار کا ہے پاکستان نے ماضی سے سیکھااور دونوں ممالک کے درمیان اب تعلقات بہتر ہونا ضروری ہے  کیونکہ ایک مستحکم افغانستان  مضبوط پاکستان کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیات  افغانستان کے امن عمل کے حوالے سےایک پیج  پر ہے ۔ اس افغان امن معاہدے  کے اعلان  کی تاریخ پر بہت کچھ منحصر ہے ۔

افغان صدارتی انتخابات سے پہلے اس کا اعلان متوقع ہےتاکہ ایک عبوری حکومت قائم ہو جو نئےصدارتی انتخابات کرائے  اور اس طرح سے طالبان کی سیاسی عمل میں  شمولیت بھی ممکن بنائی جا سکے ۔

پاکستان اور افغانستان کیلئے  ممکنہ معاہدہ  ایک نیا موقع بھی ہو سکتا ہے  کہ ماضی کی رنجشوں کو بھلا کر  دونوں ممالک  اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کر سکیں ۔ افغانستان کی سیاسی قیادت کو بہرطور  اسے اپنانا ہو گا ، کابل کے سیاسی حالات کے تناظر میں افغان سیاسی قیادت ابھی تک ایسا کرنے سے کترا رہی ہے اور  یہ اس عمل کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔

اس امن معاہدے کوخراب کرنے کی کوششیں اگر جار ی رہتی ہیں  توپھرماضی کی طرح  افغان سیاستدان ہرچیز کا الزام پاکستان پر لگاتے رہیں گے امن معاہدے کے بعد اس سے کیسے نمٹنا ہے  یہ دونوں ممالک کو سوچنا ہو گا ۔ پاک امریکا تعلقات اور چیف آف آرمی اسٹاف  کی مدت ملازمت میں توسیع کے تناظر میں بھی  اصل امتحان افغانستان ہی ہے۔ افغانستان  کے لوگ امن چاہتے ہیں  اور پاکستان کی یہ کوششیں  کامیاب ہو جاتی ہیں تودونوں ممالک کے تعلقات پھر سے استوار کئے جا سکتے ہیں ۔ آنے والے چند سال بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔

Loading...

Comments are closed.