بزمِ کونین سجانے کے لیے آپؐ  آئے

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جو عظیم انقلاب برپا کیا، وہ ہمہ پہلو اور ہمہ گیر انقلاب تھا۔ فوٹو: فائل

مزید خبریں

پروردگارِ عالم نے سرورِکائناتؐ، فخرِموجوداتؐ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس دنیا میں مبعوث فرما کر امتِ مسلمہ پر بہت بڑا احسان فرمایا۔ ربِ کائنات نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’پس! یاد کرو تم اﷲ کی نعمتیں، تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیا آپؐ سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت، کوئی فضل اور کوئی احسان ہوسکتا ہے ؟ یقینا نہیں !

حضور پُرنورؐ  کی حیاتِ پاک کا ہر ایک لمحہ نہ صرف امتِ مسلمہ بل کہ پوری انسانیت کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے، گویا رحمتِ عالمؐ کی اس دنیا میں آمد، ایک بہت بڑا انقلاب تھا اور ایسا انقلاب کہ جس کے انتظار میں یہ سسکتی بِلکتی انسانیت صدیاں تڑپتی اور ترستی رہی کہ کوئی عظیم راہ نما، کوئی عظیم ہستی، کوئی عظیم مسیحا اس دنیا میں تشریف لائے اور ہماری تاریک اور جہل میں ڈوبی ہوئی زندگی کو روشنی بخش دے، بے راہ روی سے ہٹا کر صراطِ مستقیم پر چلادے، اﷲ رب العزت کا پتا دے، دلوں پہ لگے زنگ کو اتار دے اور گرد آلود روح کو نکھار دے۔

آخر کار ربِ کائنات کو انسانیت پر ترس آیا اور ذاتِ باری تعالیٰ نے12ربیع الاول کی صبح سعادت کو وہ نور عطا فرمایا کہ جس کی تابندہ کرنوں سے پوری کائنات جگمگا اُٹھی اور جس کی خوش بُو سے سارا عالم معطّر ہوگیا۔ آقائے نام دار، حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جو عظیم انقلاب برپا کیا، وہ ہمہ پہلو اور ہمہ گیر انقلاب تھا۔ یہ عقائد و افکار اور سیرت و کردار میں انقلاب تھا۔ معاشرت اور معیشت میں انقلاب تھا۔ قانون اور سیاست میں انقلاب تھا۔ تعلیم و تربیت میں انقلاب تھا۔ اخلاق و عبادات میں انقلاب تھا۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا کہ جس کے لیے حضور سیدِ عالم ﷺ نے راہ نما اور زرّیں اصول عطا نہ فرمائے ہوں۔

آپؐ کی بعثت سے قبل کا نقشہ، حضرت جعفر طیارؓ نے نجاشی کے دربار میں خطاب کرتے ہوئے یوں پیش فرمایا، مفہوم : ’’ اے بادشاہ! ہم بے دین اور کم علم تھے، بتوں کی پرستش کرتے، مردار کھاتے اور بے حیائی کے دلدادہ تھے، اپنے بھائیوں پر ظلم ڈھاتے اور ہمسایوں کو تکلیف پہنچاتے تھے، ہم میں سے طاقت ور، کم زور پر ظلم و ستم کیا کرتا تھا، ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی اور مہمان داری کا نام و نشان نہ تھا، کوئی قاعدہ اور قانون نہ تھا کہ اچانک ہم میں سے ایک پاکیزہ انسان کو اﷲ رب العزت نے آخری پیغمبر ﷺ بنا کر مبعوث فرمایا، جس کے حسب و نسب، سچائی، امانت، پاک دامنی، دیانت داری، تقویٰ و طہارت، ہم دردی و پاکیزگی کو ہم خوب جانتے ہیں۔

اُس درِیتیمؐ نے ہم کو بتایا کہ ہم سب کا پروردگار بس ایک اﷲ ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ماں، باپ اور اولاد سے مُبرا ہے، وہ اﷲ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا، وہی سب کا خالق و مالک اور رازق ہے، نفع و نقصان اُس کے ہاتھ میں ہے، یہ بُت کسی بھی چیز کے مالک نہیں ہیں، ایک اﷲ تعالیٰ کی ذاتِ کریمی ہی حاجت روا اور مشکل کُشا ہے، اِس کے ساتھ حضورِ اقدس ﷺ نے ہمیں یہ بھی ہدایات فرمائیں کہ ہمیشہ سچ بولا کرو، اپنا وعدہ پورا کیا کرو، تمام برائیوں سے الگ رہو، آپس میں صلۂ رحمی کرو، ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، حرام امور سے بچو، خون ریزی اور یتیم کے مال کھانے سے دور رہو، کسی کا ناحق مال نہ کھاؤ، اِسی طرح پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور ساتھ ہی نماز پڑھنے کا حکم بھی دیا، روزے رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی تاکید فرمائی، مہمان نوازی کا درس دیا، ہم سب اُن پر ایمان لائے اور آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے آپؐ پر دل و جان سے فدا ہوئے۔،،

ربِ کریم عزوجل نے ارشاد فرمایا: ’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اﷲ کے رسول ﷺ کی زندگی میں ایک بہترین نمونہ ہے۔،، آپ ﷺ سے سچی اور حقیقی محبت اِس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم سب آپؐ کے ارشاداتِ گرامی کی روشنی میں ربِ غفور کی طرف سے عطا کردہ اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو اسلام میں پورا داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کی سلامتی اور صغیرہ کبیرہ گناہوں کو اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے معاف فرمائے۔

 

Loading...

Comments are closed.