مار خور ٹرافی اسکيم کے تحت شکار کے لئے چار لائسنس جاری

خيبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حيات نے ‘مارخور ٹرافی ہنٹنگ اسکيم’ کے تحت شکار کے لیے چار لائسنس جاری کر ديے ہيں۔

محکمہ جنگلی حيات کے مطابق اس سال ملکی تاريخ ميں لائسنس کے حصول کے لیے سب سے زيادہ بولی لگائی گئی۔

خيبر پختونخوا کے چيف کنزر ويٹو وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق کا کہنا ہے کہ ضلع چترال ميں تين جبکہ کوہستان ميں ايک لائسنس جاری کيا گيا۔

ڈاکٹر محسن فاروق کے مطابق چترال ميں توشی-ون کے لیے 150000 ڈالرز، توشی-ٹو کے لیے 140000 ڈالر، گہريٹ کے لیے 95250 ڈالرز جبکہ کوہستان ميں کيگا کے علاقے کے لیے 117250 ڈالر کی لیے پرمٹ جاری کیے گئے۔

ڈاکٹر محسن فاروق کا کہنا تھا کہ 90ء کے عشرے ميں مارخور کے غير قانونی شکار کے باعث خيبر پختونخوا (سابق صوبہ سرحد) ميں مارخور کی تعداد 200 کے قريب رہ گئی تھی اور پاکستان کے قومی جانور کی نسل کے ختم ہونے کے شديد خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ جس کے بعد حکومت نے پہلی مرتبہ 1998 ميں ٹرافی ہنٹنگ اسکيم شروع کی۔

ان کے بقول اس اسکیم کا بنيادی مقصد مارخور کے شکار کو کنٹرول ميں لانا تھا۔ اس کے علاوہ مقامی آبادی کو اس عمل ميں شامل کرکے اس ناياب جانور کا تحفظ بھی ممکن بنانا تھا۔

خیال رہے کہ خيبر پختونخوا کے دو اضلاع چترال اور کوہستان ميں مارخور پايا جاتا ہے۔ يہ جانور بہت زيادہ ٹھنڈے، خشک اور سنگلاخ پہاڑی علاقوں ميں رہتا ہے۔

خيبر پختونخوا کے چيف کنزر ويٹو وائلڈ لائف کہتے ہیں کہ چترال ميں اب مارخور کی تعداد ساڑے پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کوہستان ميں يہ تعداد ايک ہزار سے زيادہ ہے۔

ان کے بقول ٹرافی ہنٹنگ اسکيم کے تحت ملنے والی رقم کا 80 فی صد حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔

چترال کے ڈويژنل فارسٹ آفيسر وائلڈ لائف محمد ادريس کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ اسکیم کا بہت مثبت اثر ہوا ہے جس سے علاقے میں نہ صرف يہ جانور محفوظ ہوا ہے بلکہ مقامی آبادی ميں خوش حالی بھی آ رہی ہے۔

ان کے مطابق صرف چترال ميں ہی مقامی افراد نے کافی سارے ترقياتی کام کیے ہيں جس ميں اجتماعی حجرہ اور مساجد، آب پاشی کے چينلز، ہائيڈل پاور اسٹيشن سمیت مارخور کے تحفظ کے لیے چوکيدار رکھنا بھی شامل ہے۔

محمد ادریس کا کہنا تھا کہ پاکستان ميں ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز دسمبر ميں شروع ہوتا ہے جبکہ اس کا سیزن مارچ تک جاری رہتا ہے۔ شکاری اپنے شکار کے لیے ہتھيار اور عملہ ساتھ لاتے ہیں۔

چترال کے ڈويژنل فارسٹ آفيسر وائلڈ لائف کے بقول شکاری اپنا پرمٹ لے کر متعلقہ علاقے ميں جاتا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ ان کو لے کر پہاڑوں ميں جاتا ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ وائلڈ لائف مارخور کے شکار سے پہلے اس علاقے کا سروے کرتا ہے۔ اس کے بعد شکاری کو بتايا جاتا ہے کہ اس نے کس نوعيت کے مارخور کا شکار کرنا ہے۔ وہ اپنی مرضی کا شکار نہیں کر سکتا۔

حکام کے مطابق شکاری کم عمر اور مادہ مارخور کا شکار نہیں کر سکتے۔ شکاریوں نے چھ سال سے زائد عمر کے مارخور کا ہی شکار کرنا ہوتا ہے۔ چھ سال سے زائد عمر کے مارخور کے سينگ بڑے ہوتے ہيں جبکہ اس کی افزائش نسل کی استعداد بھی کم ہو جاتی ہے۔

وائلڈ لائف کے اہلکاروں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسا مارخور کس رينج کے درميان اپنا بسيرا کرتا ہے۔ ايسا نہیں ہوتا کہ ايک مارخور چترال سے کوہستان چلا جائے بلکہ وہ اپنی حدود ميں ہی رہتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں کے مطابق عام طور پر مارخور صبح سويرے اور شام کے وقت حرکت کرتا ہے۔ مارخور کا شکار صبح سویرے ہی ممکن ہوتا ہے۔

دلچسپ امر يہ ہے کہ مارخور جہاں رہتا ہے وہ اسی طرز کا رنگ اپنا ليتا ہے اور بہت قريب سے بھی يہ تک پتہ نہیں چلتا کہ يہ سامنے شہ مارخور ہے يا پھر کوئی پتھر ہے۔

چترال کے ڈويژنل فارسٹ آفيسر وائلڈ لائف کہتے ہیں کہ شکاری کو بہت احتياط سے فائر کرنا ہوتا ہے کيونکہ فائر مس ہونے کی صورت ميں مار خور بھاگ جاتا ہے اور پھر يہ انسان کے رينج ميں نہیں آ سکتا تاہم اس صورت ميں شکاری کے پاس دوسرے فائر کا آپشن ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارخور کی عمر 15 سال ہوتی ہے۔ يہ آزاد حرکت کا عادی جانور ہے۔ اس کی خوراک گھاس اور پتے ہوتے ہيں۔ مار خور گوشت خور جانور نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مارخور انتہائی سخت جانور ہے جبکہ يہ 90 ڈگری کی پہاڑی پر بھی بہت تيز دوڑتا ہے۔

محمد ادريس کے مطابق جہاں کہيں بھی مارخور پايا جائے گا وہاں برفانی چيتا بھی پايا جاتا ہے کيونکہ يہ برفانی چيتے کی خوراک ہے۔

انہوں نے مزيد بتايا کہ برفانی چيتا مارخور کی پھرتی برقرار رکھنے ميں بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے کيونکہ جب وہ ان کے پيچھے بھاگتا ہے تو اس سے مارخور کی اپنی رفتار بڑھانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ جسمانی طور پر فٹ رہتا ہے۔

چترال کے ڈويژنل فارسٹ آفيسر وائلڈ لائف کا کہنا تھا کہ اگر کسی جگہ برفانی چیتے نہ ہوں تو مارخور کی تعداد اضافے سے ماحوليات پر برا اثر پڑتا ہے۔ مارخور جڑی بوٹياں اور درختوں کے پتے کھاتا ہے اور درخت درجہ حرارات کو کنٹرول رکھتے ہيں جبکہ درختوں کے خاتمے کے باعث پھر سيلاب آنے کے خطرات بڑھ جاتے ہيں۔ جس سے بڑے پيمانے پر تباہی پھيلتی ہے۔

خيبر پختونخوا کے چيف کنزر ويٹو وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق کے مطابق پاکستان ہر سال صرف 12 لائسنس ہی جاری کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر محسن کے مطابق عمومی طور پر امريکہ اور يورپی ممالک کے شکاری پاکستان آتے ہيں کيونکہ وہاں ناياب جانور کا شکار بہت بڑا کھيل سمجھا جاتا ہے۔ شکاری اس کے سينگ اپنے پاس عمر بھر محفوظ رکھنا چاہتے ہيں کيونکہ يہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ميں مارخور کی تعداد میں اب چونکہ خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تو اس ضمن ميں بین الاقوامی برادی کو پاکستان کے لائسنس کوٹہ ميں اضافہ کرنا چاہیے کيونکہ اس نے ايک خاص عمر کے بعد ويسے ہی طبعی موت مر جانا ہوتا ہے جبکہ ہنٹنگ ٹرافی کے لائسنس ميں اضافے سے مقامی افراد کی فلاح و بہبود ميں اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر محسن کہتے ہیں کہ اب علاقے ميں شکار کا تصور ہی ختم ہو گيا ہے کيونکہ مقامی افراد اس کے تحفظ کو اپنا معاش سمجھتے ہيں۔

Loading...

Comments are closed.