ایس 400 دفاعی میزائل استعمال کے لیے خریدے ہیں: ترکی

مزید خبریں

ترکی کی دفاعی صنعت کی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ترکی نے روس سے ایس 400 دفاعی میزائل نظام استعمال کے لیے نہ کہ پسِ پشت ڈالنے کے لیے خریدے ہیں۔ چند ہی روز قبل، ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مذاکرات ہو چکے ہیں۔

اردوان اور ٹرمپ نے بدھ کے روز واشنگٹن میں مذاکرات کیے تھے جس کا مقصد نیٹو اتحادیوں کے مابین اس ضمن میں بڑھتے ہوئے اختلافات کو دور کرنا تھا۔ بات چیت میں شام کی پالیسی کے علاوہ ترکی کی جانب سے ایس 400 کی خریداری کے معاملے پر تعزیرات کی دھمکی کو زیر غور لانا تھا، جب کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایس 400 کے نیتجے میں لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کو خدشات لاحق ہوں گے۔

امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ ایس 400 کی خریداری کے معاملے پر ترکی کو تعزیرات کا سامنا کرنا پڑے گا، جب کہ ایف 35 طیاروں کی تیاری کے پروگرام سے ترکی کو نکال دیا گیا ہے، جس منصوبے میں ترکی خریدار کے علاوہ تیار کنندہ ملکوں میں شامل تھا۔ ترکی پر ابھی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں، جس نے جولائی میں یہ روسی نظام حاصل کرنا شروع کیا۔

‘سی این این ترک’ کے ساتھ انٹرویو میں، اسماعیل دیمر نے کہا ہے کہ یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ کوئی ملک ایسے نظام صرف دکھانے کے لیے خریدے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ترکی اور امریکہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ طے ہو جائے۔

ڈیمر نے کہا کہ ”سوچ کا یہ انداز درست نہیں کہ ہم انہیں استعمال نہیں کریں گے، جس نظام کو ہم نے اپنی ضرورت کے تحت خریدا ہے اور جس کے لیے ہم نے بھاری رقم ادا کی ہے”۔

انھوں نے مزید کہا کہ ”ہمارے روس اور امریکہ دونوں ہی کے ساتھ اتحادی مراسم ہیں۔ ہم ان سمجھوتوں کی حرمت کے پابند ہیں جن پر ہم نے دستخط کیے ہیں”۔

بدھ کو وائٹ ہائوس میں ٹرمپ نے اردوان پر زور دیا کہ وہ ایس 400 نظاموں کو منسوخ کریں، لیکن بعد ازاں اردوان نے کہا کہ ترکی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ انھوں نےترکی کی جانب سے ایس 400 کے علاوہ امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اردوان کے ایک چوٹی کے مشیر نے جمعے کے دن کہا کہ ترک اور امریکی اہلکاروں نے ایک مشترکہ طریقہ کار کے ایک جُزو کے طور پر کام شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ایس 400 میزائل نظام کے ایف 35 پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ہے۔

ڈیمر نے کہا کہ اس پیش رفت سے امریکہ کے موقف میں نرمی کا عندیہ ملتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے بعد ترکی ایسے اقدام پر تیار ہے جن کے نتیجے میں ایس 400 کے معاملے پر امریکی تشویش کا جائزہ لیا جا سکے۔

ڈیمر کے بقول، ”ایک وفادار دوست اور اتحادی کے طور پر، ہم کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی خدشات ہیں تو ہم درکار اقدام کرنے پر تیار ہیں، اگر ہم سے کوئی صرف نظر ہوا ہو”۔

انھوں نے کہا ”ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ ایس 400 کے معاملے میں ہم کوئی درمیانی راستہ تلاش کر لیں گے، تاوقتیکہ دونوں فریق کھلے دل سے کوشش کریں”۔

Loading...

Comments are closed.