امریکہ اور جنوبی کوریا کا فوجی مشقیں مؤخر کرنے کا اعلان

امریکہ اور جنوبی کوریا نے فوجی مشقیں مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک میں فوجی مشقوں کو مؤخر ہونے کی وجہ شمالی کوریا کو رعایت دینا قرار دیا جا رہا ہے تاہم واشنگٹن نے اس کی تردید کی ہے۔

جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوج کی ہونے والی مشقوں کو ‘مشترکہ فضائی تربیتی پروگرام’ قرار دیا جاتا ہے۔ جس میں دونوں ممالک کی فضائیہ مختلف جنگی ماحول میں مشقیں کرتی ہیں۔

شمالی کوریا کی جانب سے مسلسل اعتراض کے بعد ان جنگی مشقوں کا دائرہ کار پہلے سے کئی گنا کم کیا جا چکا تھا تاہم پیانگ یانگ کے اس پر اعتراضات برقرار تھے۔

امن کی کوشش

مشقوں کے مؤخر ہونے کے حوالے سے امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی افواج اس اقدام کے باوجود ہر قسم کے حالات کے لیے بھر پور تیار رہیں گی۔

انہوں نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ جنگی مشقوں کا مؤخر ہونا شمالی کوریا کو کسی قسم کی رعایت دینا ہے۔

مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ کسی قسم کی رعایت نہیں لگی۔ مجھے یہ امن کے قیام کے لیے ایک اچھا کام کرنے کی کوشش لگتی ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر جس وقت فوجی مشقوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کر رہے تھے ان کے ہمراہ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع بھی موجود تھے۔

دونوں ممالک میں یہ مشقیں آنے والے دنوں میں ہونی تھیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں شمالی کوریا کے ایک اعلی سفارتی عہدیدار نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ جنوبی کوریا کے ہمراہ امریکہ کی فضائی مشقیں واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان مذاکرات پر ‘ٹھنڈا پانی ڈالنے’ کے مترادف ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی ایسی مشقوں کی متواتر مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ پیانگ یانگ اسے حملے کی تیاری کی نظر سے دیکھتا ہے۔

امریکہ کا مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ واشنگٹن اور سول کی جانب سے فوجی مشقیں مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد شمالی کوریا اور امریکہ میں جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے مذاکرات شروع ہو سکیں گے۔

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اس مثبت اقدام کا جواب شمالی کوریا کی جانب سے بھی آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی جمہوریہ کوریا سے امید ہے کہ وہ بھی نیک نیتی سے تربیت، فوجی مشقوں اور دیگر تجربات کے حوالے فیصلے کرے گا۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو چاہیے کہ اب وہ دوبارہ بغیر کسی پیشگی شرائط یا تردد کے مذاکرات کی میز پر آ جائے۔

شمالی کوریا کا موقف

دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب موقف سامنے آیا ہے کہ وہ امریکہ کے فوجی مشقیں مؤخر کرنے کے اقدام کو مثبت نظر سے دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق واشنگٹن کی قرار داد سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اخلاص نہیں رکھتا۔

شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کی ہمیشہ مخالفت کی جاتی رہی ہے — فائل فوٹو

شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کی ہمیشہ مخالفت کی جاتی رہی ہے — فائل فوٹو

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کو پیانگ یانگ امریکہ کی دشمنی پر مبنی حکمت عملی قرار دیتا ہے تاکہ اس سے شمالی کوریا میں حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔ شمالی کوریا اقوام متحدہ میں قرار داد کو امریکہ کی سیاسی اشتعال انگیزی بھی سمجھتا ہے۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر مذاکرات شروع ہو بھی جاتے ہیں تب بھی جوہری معاملات کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔

بیان کے مطابق پہلے امریکہ کی اشتعال انگیزی پر مبنی حکمت عملی کا معاملہ اٹھایا جائے تاکہ دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہو سکیں۔

خیال رہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا میں جب بھی کوئی فوجی مشقیں ہوتی ہیں تب شمالی کوریا نہ صرف اس کی مخالفت کرتا ہے بلکہ اس دوران وہ میزائل تجربات بھی تیز کر دیتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا میں 2017 میں فوجی مشقوں میں 230 طیاروں نے حصہ لیا تھا جبکہ ان میں 12 ہزار امریکی فوجی شریک ہوئے تھے۔ 2019 میں ہونے والی مشقوں کے مؤخر ہونے کے بعد ابھی یہ واضح نہیں کہ دوبارہ یہ مشقیں کب ہوں گی۔

Loading...

Comments are closed.