امریکی کانگریس میں کشمیر پر سماعت، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی صحافیوں کو کشمیر جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ

امریکی کانگریس کی ’ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن‘ میں کشمیر پر سماعت کے دوران بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گرفتار افراد کی فوری رہائی، غیر ملکی صحافیوں اور ماہرین قانون کو علاقے تک رسائی دینے اور خطے میں پانچ اگست سے جاری رابطے کے تمام ذرائع کی بندش کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سماعت میں ، انسانی حقوق کے سات علمبرداروں، قانون دانوں اور دانشوروں نے اپنی شہادتیں پیش کیں۔ جمعرات کو ہونے والی یہ خصوصی سماعت امریکہ میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں ، دانشوروں اور یونیورسٹی پروفیسروں کی کوششوں سے منعقد کی گئی تھی۔ سماعت کو سننے کے لئے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈ ٹرون، ڈیوڈ سیسی لائین ، شیلا جیکسن لی، برائن کے فٹز پیٹرک، پرامیلا جیا پال، اور کرس سمتھ موجود تھے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی کشمیری نژاد امریکن قانون دان، شہلا اساہی نے اراکین کانگریس کو بتایا کہ ان کا خاندان کشمیر کا دیرینہ سیاسی گھرانہ ہے، جس کے کئی افراد ان دنوں جیل میں ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ’’ان افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس امید کے ساتھ کمیشن میں پیش ہوئی ہیں کہ ’’ان کے خاندان اور ان جیسے دیگر ہزاروں لوگوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے گا‘‘۔

شہلا اساہی نے کہا کہ امریکی کانگریس کی اس سماعت کی خبر جب کشمیر جانے والوں کے ذریعے انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا کر تےکشمیریوں تک پہنچے گی تو انہیں محسوس ہوگا کہ ‘ابھی امید ختم نہیں ہوئی’۔

انسانی حقوق کے وکیل اور واشنگٹن کی جارج ٹاون یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ارجن سیٹھی نے سماعت کے دوران ہندو قوم پرستی کو ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا، جو بھارت کی دیگر مذہبی اقیتوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر کا نام لینے والوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے، جو ہر وہ آدمی ادا کر رہا ہے،جو مودی حکومت امیت شاہ، بی جے پی ، آر ایس ایس کے سامنے سچائی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔آج کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ کشمیریوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، ان کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں، وہ آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے، بھارت نے ان کا انٹرنیٹ بلیک آوٹ کر رکھا ہے۔ اگر بھارت اور اس ایوان میں موجود میرے ساتھی سچ بول رہے ہیں، تو کیوں نہیں غیر ملکی قانون سازوں ، یورپ کے غیر جانبدار مبصرین اور انسانی حقوق کے وکلاٗ کو کشمیر جانے دیا جارہا،کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے سچائی جانچ سکیں ۔ وجہ یہی ہے کہ انڈیا نہ صرف کشمیر میں بلکہ آسام میں بھی اپنی زیادتیاں اور نفرت پر مبنی تشدد چھپانا چاہتا ہے’۔

یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئیس فریڈم کی کمشنر انو رما بھارگوو نے کشمیر کے مسئلے کو بھارت میں آسام کے مسئلے سے جوڑ کر پیش کیا، جہاں بنگال سے آکر آباد ہونے والے بیس لاکھ سے زائد ہندو اور مسلمانوں کے بھارتی شہریت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔

پانچ اگست کے اقدام کے بعد، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گرفتار ایک نوجوان مبین شاہ کی کزن اور انسانی حقوق کی وکیل یسرا فاضلی نے بتایا کہ مبین شاہ کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت قید کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا کزن جیل میں ہے، اور بقول ان کے ’’پورے علاقے کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘‘۔

بھارتی امریکی کالم نگار اور کشمیری پنڈت سنندا ویششت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کشمیر میں انسانی حقوق کی بحالی کے مترادف قرار دیا۔ اور کشمیر سے بے گھر ہونے والے ہندو پنڈتوں کا کیس امریکی اراکین کانگریس کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر میں گھر اور زندگیاں ‘ریڈیکل اسلامک ٹیررزم’ یا انتہاپسندی پر مبنی اسلامک دہشت گردی نے تباہ کر دیں’ ۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کشمیر میں تیس سال پہلے ،جب مغرب ابھی انتہا پسند اسلام کے تصور سے متعارف بھی نہیں ہوا تھا،اُس درجے کی سفاکی دیکھی ہے،جسے آج داعش سے مخصوص کیا جاتا ہے، ۔ ہمیں خوشی ہے کہ یہ سماعت ہو رہی ہے۔ کیونکہ جب میرے خاندان نے اپنا گھر ، اپناذریعہ معاش اور اپنا طرز زندگی کھویا، اس وقت دنیا نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی تھی’۔

کشمیری پنڈت، کالم نگار سنندا ویششت

سنندا ویششت نے 1990 کا ذکر کیا، جب ان کے بقول، ‘کشمیر سے چار لاکھ کشمیری ہندووں کو جان بچا کر نقل مکانی کرنی پڑی، کیونکہ انہیں صرف تین آپشن دیئے گئے تھے، فرار ہو جائیں، مذہب تبدیل کر لیں یا جان دے دیں’۔ ان کے بقول، ‘آج تیس سال بعد بھی میں کشمیر میں اپنے گھر نہیں جا سکتی، میرے گھر پر نا جائز قبضہ ہے۔۔۔۔کشمیر سے ہندو ازم کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی،ہمارے مندروں میں لوٹ مار کی گئی، ان کے تقدس کو مجروح کیا گیا، آج کشمیر صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کا گھر ہے، ایسا ایک سوچے سمجھے منصوبے سے کیا گیا اور یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کشمیر میں سیب کے تاجروں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘انتہا پسند نہیں چاہتے کہ کشمیر میں زندگی معمول پر واپس آئے۔ وہ کشمیریوں کے روزگار کمانے کے حق کا استعمال کرنے سے خوفزدہ ہیں’۔۔۔

سنندا ویششت نے کہا کہ ‘بھارتی آئین ، امریکی آئین کی طرز پر بنایا گیا ہے، اور دنیا کا انتہائی آزادی پسند دستاویز ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں اور لداخ کے رہنے والے اپنے ملک کے نصف شہری بنے رہنے کی پابندی سے آزاد ہو گئے ہیں۔ کم عمری کی شادیاں، سیکس ٹریفکنگ کو قانونی طور پر بند کیا گیا ہے۔۔۔خواتین کو وراثت میں حصہ اور ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے پاس انتخاب کا حق دینے جیسے معاملات پر بھارتی قانون لاگو کر دیا گیا ہے’۔

کشمیر پر طویل عرصے سے ریسرچ کرنے والی اوہایو یونیورسٹی کے سینٹر فار لا، جسٹس اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہیلی ڈوشنسکی نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ ضروری ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی شکایات کی بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں،کیونکہ بقول ان کے، بھارت کے اپنے قوانین ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں، لیکن کشمیر کی کسی ایک کمیونٹی کی تکالیف کو کسی دوسری کمیونٹی کے خلاف ہتھیار بناکر استعمال کرنا درست نہیں۔

امریکی کانگریس کی اس سماعت کے دوران کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مطالبہ بھی کیا گیا،تاکہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری لفظی جنگ میں الجھے بغیر خود اپنی کہانی سنانے کے قابل ہوسکیں۔

سماعت کے بعد ایک میڈیا بریفنگ میں مقامی کشمیری رہنما تاشفین قمر نے بتایا کہ کانگریس کی ’ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن‘ کا مقصد دنیا بھر میں انسانی حقوق کا جائزہ لے کر قانون سازی کے لئے کانگریس کو سفارشات بھیجنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمیشن کی آج کی سماعت ریاست منیسوٹا سے ریبلیکن کانگریس مین جیمز میگاونٹ کی سربراہی میں ہوئی۔

تاشفین قمر کا کہنا تھا کہ سماعت کے موقع پر سوال و جواب کے دوران ایک موقع پر پوچھا گیا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ جواب میں، بقول ان کے، سماعت میں موجود کچھ شرکا نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

میڈیا بریفنگ میں موجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے سے سرگرم عمل رہنے والی امریکی خاتون کیرن فیشر نے کمیشن کی سماعت کو کشمیریوں کے لئے ’’خوش آئند‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلی بار، اس بڑے پیمانے پر امریکی ایوان میں کشمیر پر بات ہوئی، جس سے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

بعض بھارتی اخبارات نے امریکی کانگریس میں کشمیر پر ہونے والی اس دوسری سماعت کی کارروائی میں کشمیری پنڈت سنندا وششت کی شہادت کی تفصیلات کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے، لیکن سماعت میں شریک انسانی حقوق کے دیگر چھ وکلا کی شہادتوں کی تفصیلات پر خاموشی اختیار کی ہے۔

بھارتی حکومت نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی توجیح پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں ترقی کے لئے علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ لیکن، کشمیری الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومت یہ اقدامات مسلم اکثریتی علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے کر رہی ہے۔

Loading...

Comments are closed.