‘وزیر اعظم اپنے منصوبے پر تختی لگاتے تو بہتر تھا’

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے حویلیاں میں ہزارہ موٹروے کا افتتاح کیا۔ اس کے افتتاح کے بعد سے ہی پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ اس موٹروے کی منظوری سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دی تھی۔ لہذٰا موجودہ حکومت محض افتتاح کر کے سارا کریڈٹ خود سمیٹ رہی ہے۔

ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار اورنگزیب نلوٹا کا کہنا ہے کہ 2014 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ان کے بقول نواز شریف نے 2013 کے انتخابات میں ہزارہ کے عوام سے اس موٹروے کا وعدہ کیا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔

ہزارہ موٹروے کے افتتاح سے قبل مسلم لیگ (ن) کی جانب سے حویلیاں میں مختلف بینرز لگائے گئے تھے جن پر ‘شکریہ نواز شریف’ سمیت دیگر نعرے درج تھے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے عمران خان کی آمد سے قبل یہ زبردستی اتروا دیے۔

اورنگزیب نلوٹا کہتے ہیں کہ اس ضمن میں انہوں نے مقامی انتظامیہ سے شکایت بھی کی تھی۔ لیکن انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نواز شریف کے منصوبوں کا افتتاح کرنے کی بجائے وزیر اعظم اپنے کسی منصوبے کا افتتاح کرتے۔

وفاقی وزير سائنس و ٹيکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) جن منصوبوں کا کریڈٹ لے رہی ہے۔ بنیادی طور پر ان میں سے بیشتر منصوبے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں منظور کیے گئے تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی ذاتی رقم سے نہیں بلکہ قومی خزانے سے ہی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ ان کے بقول جو بھی وزیر اعظم ہو گا بڑے منصوبوں کا افتتاح وہی کرے گا۔

ہزارہ موٹر وے منصوبہ ہے کیا؟

ہزارہ موٹروے منصوبہ صوبہ پنجاب کے علاقے حسن ابدال سے خیبر پختونخوا کے تھاکوٹ تک 180 کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ اس کے تین حصے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دسمبر 2017 میں برہان سے شاہ مقصود 47 کلومیٹر طویل سیکشن کا افتتاح کیا تھا۔

پاکستان، چین اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 39 کلومیٹر پر مشتمل سیکشن سے حویلیاں کو مانسہرہ سے منسلک کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے) کے مطابق اس منصوبے سے سالانہ 38 ارب کی بچت ہو گی اور ہر روز 10 ہزار سے زائد گاڑیاں اس سے استفادہ کر سکیں گی۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے اسلام آباد اور مانسہرہ کے درمیان سفر کے دورانیے میں بھی کمی آئے گی۔

مقامی افراد کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے رہائشی اور کاروبار سے منسلک افراد دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس موٹروے سے انہیں بہت فائدہ ہو گا اور کاروباری سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔

مانسہرہ کے رہائشی ٹرک ڈرائیور ذوالفقار علی کہتے ہیں کہ رش اور بے ہنگم ٹریفک کے باعث انہیں راولپنڈی پہنچنے میں پورا دن لگ جاتا تھا۔ لیکن اب وہ تین سے چار گھنٹے میں پہنچ سکیں گے۔

ذوالفقار کہتے ہیں کہ اس موٹروے سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ ڈیزل کی مد میں آنے والے اخراجات بھی کم ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس موٹروے سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گے۔ راولپنڈی سے بذریعہ مانسہرہ وادی کاغان جانے والے سیاح بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔

Loading...

Comments are closed.