‘روایتی حلیفوں سے تعلقات بحال کریں گے’

آئندہ سال امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند امیدوارں کے درمیان پانچویں مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ مباحثے کے دوران امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو صدر ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کے باعث دور ہونے والے امریکی اتحادیوں سے تعلقات بحال کریں گے۔

بدھ کو اٹلانٹا میں ہونے والے مباحثے میں صدارتی امیدوار بننے کے 10خواہش مند ڈیموکریٹس نے قدرے تحمّل سے بات کی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے بھی گریز کیا۔

مباحثے میں ایک بار پھر صدر ٹرمپ کے خلاف جاری مواخذے کی کارروائی موضوع بحث بنی رہی۔ امیدواروں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اقدامات سے قانون سازوں کو مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور کیا۔

ڈیموکریٹس کے ٹکٹ کے خواہش مند ایک امیدوار برنی سینڈرز نے کہا کہ صدر ٹرمپ جدید امریکی تاریخ کے سب سے بدعنوان صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحتِ عامّہ سے محروم اور کئی بے گھر افراد امریکہ میں معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔

برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہماری بقا خطرے میں ہے۔

سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ اگر 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے کی شفاف تحقیقات ہو جاتیں اور صدر ٹرمپ مِلر رپورٹ اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتے تو آج یوکرین والا تنازع سامنے نہ آتا۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی جاری ہے۔ صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنے متوقع حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا۔

مباحثے کے دوران جو بائیڈن نے کہا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کریمنل تحقیقات کے لیے محکمۂ انصاف پر کوئی دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ ان کے بقول وہ یہ معاملہ اٹارنی جنرل پر چھوڑ دیں گے۔

بائیڈن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس وقت امریکہ کو اتحاد کی ضرورت ہے۔

مباحثے کےدوران ڈیموکریٹ امیدواروں نے مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور روایتی اتحادیوں کو چھوڑ کر امیدواروں کے بقول ناقابلِ اعتبار اتحادی ہونے کا تاثر ابھارنے پر شدید تنقید کی۔

جو بائیڈن نے کہا کہ وہ امریکہ کے ان روایتی حلیفوں سے تعلقات دوبارہ استوار کریں گے جو ٹرمپ کے صدر بننے سے قبل امریکہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکہ دست بردار ہو جائے گا۔ جو ان کے بقول دنیا کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

سینیٹر کمالا ہیرس نے شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن سے ملاقات کرنے پر امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امیدوار پیٹ بٹگیگ نے ایوانِ نمائندگان کی خاتون رکن تلسی گیربڈ کی شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا ایک "قاتل” سے امریکی قانون ساز کی ملاقات افسوس ناک عمل ہے۔ جس پر تلسی گیبرڈ نے جواب دیا کہ دشمنوں کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ اہداف حاصل کرنا ہمت اور حوصلے کا متقاضی ہے جو پیٹ بٹگیگ میں نہیں ہے۔

مباحثے کے دوران بیشتر امیدواروں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے معاملے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔

تازہ ترین سروے کے مطابق سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن، سینیٹر الزبتھ وارن اور برنی سینڈرز ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں سرفہرست ہیں۔

ڈیموکریٹس امیدواروں کے درمیان اگلا مباحثہ 19 دسمبر کو ہو گا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے ایسے 12 مباحثوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خواہش مند امیدوار، خارجہ پالیسی، داخلی معاملات، اسقاطِ حمل کے امریکی قوانین اور امیگریشن سے متعلق اپنا ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

ان مباحثوں کے بعد فروری 2020 میں ڈیموکریٹ پارٹی کی پرائمریز اور ‘کاکس’ ووٹنگ کے ذریعے حتمی امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹس کے ووٹرز ایسے امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ دیں گے جو خارجہ پالیسی، صحت، امیگریشن اور ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر ان کے جذبات کی ترجمانی کے علاوہ صدر ٹرمپ کو شکست دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔

Loading...

Comments are closed.