یہ کائنات آپؐ ہی کے طفیل ہے

آپؐ کے دستِ مبارک پر آکر سنگ ریزے کلمہ پڑھنے لگتے تھے۔ فوٹو : فائل

مزید خبریں

ہمیں آج اﷲ کے سب سے محبوب نبی، رسول اور حبیب آنحضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرت ِ طیّبہ پہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم اپنی سیرت کو بھی بہتری، خیر، نیکیوں، بھلائیوں اور انسانیت پہ مبنی دیگر اعلیٰ صفات سے منوّر کرسکیں۔

نبی ِمکرّم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی جامع ترین زندگی، جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بل کہ اقوامِ عالم کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ اور اُسوۂ حسنہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے عالمین کو درحقیقت اپنے حبیب آنحضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے خَلق فرمایا ہے۔ یہ عالَمِ رنگ و بو، یہ کائنات اُنھی کے طفیل ہے۔

ارشادِ الہٰی کا مفہوم ہے : ’’ اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور اُس کے رسول ؐ پر ایمان لے آؤ، اﷲ تمہیں اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور تمہیں وہ نور عنایت فرمائے گا جس سے تم راہ طے کر سکو گے اور تمہاری مغفرت بھی کردے گا اور اﷲ بڑا معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔‘‘

گویا نبوتِ امام الانبیاء ؐ پر ایمان اتنا اہم ہے کہ انسان رحمتِ الہٰی کے دہرے حصے کا حق دار بن جاتا ہے اور اُس کو ایسی طاقت عطا ہوجاتی ہے جس سے مشکل راستوں کو بھی طے کیا جاسکتا ہے۔ ایک دانش ور کے بہ قول مقامِ فکر ہے کہ اگر صرف ایمان لاکر اتنی قوت حاصل ہوجاتی ہے تو اُسوۂ حسنہ کو اپنا کر اور سیرتِ نبی اکرم ﷺ کو اپنے لیے راہ نما بنا کر ہم کس قدر قوی ہوسکتے ہیں۔

کفّارِ مکّہ نے خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو خوب پہچاننے اور پرکھنے کے بعد اُنھیں صادق اور امین کے خطاب دِیے۔ یہ آپؐ کی ابدی عظمتِ سیرت و کردار کا بیّن ثبوت ہے۔ تعریف تو وہی ہے جو دشمن اور غیر بھی کرے، دوست اور اپنے تو کرتے ہی ہیں۔ اﷲ نے جنھیں اپنے نام دِیے۔ قرآنِ کریم میں رؤف اور رحیم کہا۔ ننانوے نام عطا کیے۔

اﷲ محمود ہے، تو اپنے حبیب کو محمدؐ کہا، اپنے نام سے اپنے حبیب ؐ کا نام مشتق کیا۔ قرآنِ حکیم میں آپؐ کی شان میں متعدد سورے اور آیات نازل فرمائیں۔ ایک مکمل سورہ، سورۂ محمد ؐ کے نام سے نازل فرمایا۔ آپؐ کو اپنے اہلِ بیت ؓسے اتنی محبت تھی کہ آپ ؐ کے اہلِ بیتؓ سے مودّت اﷲ نے اُمّتِ مسلمہ پر ابد الآباد تک واجب کردی۔ اپنے محبوب ؐ کے اہلِ بیتؓ اﷲ تبارک و تعالیٰ کو بھی اتنے محبوب اور پیارے ہیں۔ہمارا ہر دن یومِ مصطفیؐ ہے۔ ہمارا ہر لمحہ، لمحۂ مصطفی ﷺ ہے، اِس لیے کہ اُن کے نام کے بغیر تو صبح بھی سانس نہیں لیتی۔ ہمارا کوئی دن بغیر نبی ِمکرّمؐ کے نہیں گزرتا۔

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ ٗ فرماتے ہیں : ’’اﷲ تعالیٰ نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو نبی ِبرحق بنا کر بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر اﷲ کی عبادت کرائیں، بندوں کے عہد و پیمان سے نکال کر اﷲ کے عہد و پیمان کے بندھن میں باندھ دیں، بندوں کی اطاعت چھوڑ کر اﷲ کی اطاعت میں لگ جائیں، بندوں کی ولایت سے نکل کر اﷲ کی ولایت میں داخل ہوجائیں۔‘‘

ایک موقع پر نبی ِ مکرّم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے چند لوگوں کو دیکھا کہ اُن کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون لوگ ہیں؟ کیوں اِن کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں؟‘‘ کسی صحابی نے بتایا: ’’یہ وہی ہیں، جنہوں نے آپؐ کو مکّہ چھوڑنے پر مجبور کیا، یہ وہی ہیں، جنہوں نے آپؐ کو اذیتیں پہنچائیں۔‘‘

رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے کمالِ رحمت سے فرمایا:

’’جاؤ میں نے تمہیں آزاد کر دیا، میں نے تمہیں معاف کر دیا۔‘‘

ہر نبیؑ نے اپنی برداشت کی انتہاء بتائی، مگر ہمارے نبی ِکریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی برداشت کی حد نہیں بتائی، کسی مرحلے پر بھی نبی کریمؐ نے بددُعا نہیں کی، سخت ترین دشمنوں کے لیے کہا: ’’ یااﷲ ! اِنہیں معاف کردے، یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ تاریخِ اسلام میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں۔

جس کنویں کا پانی کڑوا ہوتا تھا، نبی ِکریم ﷺ لُعابِ مبارک ڈال دیں تو وہ میٹھا پانی ہوجاتا تھا۔ آپؐ کے دستِ مبارک پر آکر سنگ ریزے کلمہ پڑھنے لگتے تھے۔ سواری کا جو جانور بہت خود سر ہوتا تھا، اگر آپؐ اُس پر ہاتھ رکھ دیتے تھے، تو آپؐ کی شفقت پاکر وہ فرماں بردار ہوجایا کرتا تھا۔ معجزاتِ نبی ِ مکرّمؐ پہ کئی جامع اور ضخیم کتب لکھی گئی ہیں۔ آپؐ سے منسوب ہر چیز بابرکت قرار پائی۔ ایک صحابیؓ نے مکان تعمیر کیا، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے گھر میں مدعو کیا۔ آپ ؐنے مکان دیکھا، خوش ہوئے۔ ایک کمرے میں ایک کھڑکی نظر آئی، آپؓ نے اُس صحابیؓ سے پوچھا: ’’یہ کھڑکی تم نے کس مقصد سے بنائی ہے؟‘‘

صحابیؓ نے کہا: ’’ آقا ؐ! اِس لیے کہ ہوا آئے۔‘‘

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

’’ہوا تو آتی ہی ، لیکن اگر تم یہ نیت کرلیتے کہ اذان کی آواز آئے گی، تو تم اﷲ تعالیٰ کی جانب سے اجر و ثواب کے مستحق ہوجاتے۔‘‘

ہر کام میں ہماری نیت نیک ہونی چاہیے۔ وہ نبی ِ مکرّم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم جو پیکرِ علم ِ الٰہی ہیں، وہ جو مجسّم علمِ الٰہی ہیں، مدینۃ العلم ہیں، بابِ مدینۃ العلم حضرت علی کرم اﷲ وجہہٗ اُن کے متعلق فرماتے ہیں: ’’میرا علم تو لعابِ پیغمبرؐ ہے۔‘‘

’’بعد از خدا بزرگ تُوئی قصہ مختصر‘‘

Loading...

Comments are closed.