نواز شریف کی بیماری یا مسئلہ کچھ اور ہے؟

مزید خبریں

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف ان دنوں لندن میں زیر علاج ہیں اور ان کے پسند کے کلینک میں ان کے لیبارٹری ٹیسٹ اور چیک اپ کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر ان کی بیماری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

جمعے کے روز میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے سوال کیا کہ جہاز پر نظر پڑتے ہی مریض ٹھیک ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹوں میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ کسی وقت بھی موت واقع ہو سکتی ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ جب وہ طیارے میں سوار ہو رہے تھے تو انہیں دیکھ کر میں نے ان کی میڈیکل رپورٹ سامنے رکھ لی۔ رپورٹ میں 15 بیماریاں لکھی تھیں اور خطرناک حالت بتائی گئی تھی۔ میں نے کہا کہ اللہ تیری بڑی شان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا علاج پاکستان میں نہیں ہو سکتا۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ کیا جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہو گیا یا پھر لندن کی ہوا لگی تو ٹھیک ہو گیا۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں چل پڑی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے عمران خان کی تقریر کے بعد اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعطم کو ‘یہ بھی معلوم نہیں کہ نواز شریف جہاز کی سیڑھیاں نہیں چڑھا تھا بلکہ انہیں لفٹ سے جہاز پر پہنچایا گیا تھا’۔

عمران خان نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ نواز شریف لندن کسی ائیر ایمبولینس میں نہیں، قطر کے شاہی خاندان کے طیارے میں سوار ہوکر گئے۔ اس کا جواب احسن اقبال نے اپنی ٹوئٹ میں طیارے کی اندرونی تصویروں کے ساتھ دیا ہے جس میں میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس کے انتظامات موجود ہیں۔

نواز شریف کو اکتوبر کے مہینے میں لاہور میں نیب کی تحویل میں شدید بیماری کی وجہ سے علاج کے لیے سروسز اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ اسپتال نے حکومت کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دل، گردوں، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی مرض لاحق ہیں۔ جب ایک مرض کا علاج کیا جاتا ہے تو اس کے منفی اثرات دوسری بیماریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

حکومت نے اس سلسلے میں ایک میڈیکل بورڈ مقرر کیا جس کی رپورٹس وفاقی حکومت کو بجھوائی گئیں۔ ان میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ اس دوران ہائی کورٹ نے انہیں علاج کے لیے 8 ہفتوں کی ضمانت دے دی۔ اور میاں نواز شریف سروسز اسپتال سے اپنے گھر منتقل ہو گئے جس کے متعلق بتایا گیا کہ وہاں ان کی طبی دیکھ بھال کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئےہیں۔

ٹوئٹر کے ایک صارف نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں انہیں لفٹ کے ذریعے طیارے میں سوار ہوتے دکھایا گیا ہے۔

تجزیہ کا ر اینکر اور کالم نگار سیلم صافی نے اپنی ٹوئٹ میں پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کے حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق رپورٹس انہوں نے ہی تیار کیں تھیں۔

ای سی ایل میں نام ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ یہ معاملہ کئی دن تک چلتا رہا اور اس دوران شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں سے بھی نواز شریف کی بیماریوں کی تصدیق کرائی گئی۔ جس کے بعد انہیں سات ارب روپے کے بانڈ پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی جسے نواز شریف اور ان کی پارٹی نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اعلیٰ عدالت نے انہیں 50 روپے کی اسٹام پر چار ہفتوں کی اجازت دے دی۔

اس سارے عرصے کے دوران میڈیا پر نواز شریف کی بیماری میں اتار چڑھاؤ کی خبریں چھائی رہیں۔ ان کے ذاتی معالج کے حوالے سے کہا جاتا رہا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گر رہے ہیں، جبکہ انہیں زندگی بچانے والے اسٹیرائیڈز ادویات دی جارہی ہیں اور ہوائی سفر کے قابل بنانے کے لیے بھی اسٹیرائیڈز دی جا رہی ہیں۔

اس تنازع کے دوران پنجاب حکومت کی وزیر صحت یاسمین راشد نے تصدیق کی تھی نواز شریف شدید بیمار ہیں۔

وفاقی حکومت نے نواز شریف کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت بھی ہر طرح کی تسلی کر لینے کے بعد دی۔ لیکن ان کے جاتے ہی بیماری دوبارہ متنازع بن گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے عمران خان کی تقریر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان صرف سیاسی مخالفین کی نقلیں اتار رہے ہیں۔ لوگوں کے چولہے نہیں جل رہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشن میں غیر ملکی فنڈنگ کی روزانہ سماعت شروع ہونے والی ہے، اس وجہ سے حکومت پر دباو میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اگرچہ اسلام آباد سے اپنا دھرنا ختم کر کے واپس جا چکے ہیں، لیکن اپنی حالیہ چند تقاریر میں وہ کسی بڑی تبدیلی کے اشارے دے چکے ہیں۔

Loading...

Comments are closed.