چین کے لیے جاسوسی کی سازش، امریکی خفیہ ادارے کے سابق افسر کو 19 سال قید

چین کو بڑی رقم کے عوض خفیہ معلومات دینے پر خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ایک سابق جاسوس کو امریکہ میں 19 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سابق جاسوس نے چین کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے آٹھ لاکھ 40 ہزار ڈالرز کی رقم لی جس کے بدلے میں انہوں نے ان افراد کے نام فراہم کیے جو امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے۔

جس شخص کو سزا دی گئی ہے اس کا نام ‘جیری چن شنگ لی’ بتایا جا رہا ہے جس کی عمر 55 سال ہے۔

واضح رہے کہ جیری چن شنگ لی معلومات فراہم کرنے کے الزامات تسلیم کر لیے تھے اس لیے وکیل دفاع نے ان کے لیے سزا کی مدت 10 سال کرنے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت نے انہیں 19 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔

جیری چن شنگ لی پر جاسوسی کی سازش کرنے کے الزامات پر وکیل دفاع اور سرکاری وکیل میں اختلاف برقرار رہا کیونکہ وکیل دفاع کے مطابق یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ جیری چن شنگ لی نے جاسوسی کی ہے۔

حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سرکاری وکلا کے مطابق چین کے خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے جیری چن شنگ لی کو تین سال میں آٹھ لاکھ 40 ہزار روپے دیے۔ یہ تین سال کا عرصہ 2010 میں شروع ہوتا ہے۔

ہانگ کانگ کے میڈیا نے 2017 میں لی گئی اس تصویر میں موجود نیلی ٹائی والے شخص کو سی آئی اے کا سابق جاسوس جیری چن شنگ لی بتایا تھا — فائل فوٹو

ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ جیری چن شنگ لی نے 13 سال سی آئی اے میں بطور ‘کیس آفیسر’ گزارے۔ انہوں نے اس عرصے کی تقریباََ تمام معلومات چینی خفیہ ادارے کو فراہم کیں۔

دوسری جانب جیری چن شنگ لی کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت یہ کبھی ثابت نہیں کر سکی کہ ان کے موکل کے پاس رقم چین سے آئی ہے۔ نہ یہ ثابت ہو سکا کہ انہوں نے کبھی خفیہ معلومات چین کو دینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ ان کے پاس براہ راست ایسے ثبوت نہیں ہیں کہ انہوں نے کیا کیا فراہم کیا نہ ہی یہ ثبوت ہے کہ جیری چن شنگ لی نے جو رقم اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائی ہے وہ چین کے خفیہ ادارے نے فراہم کی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاہم جیری چن شنگ لی کبھی یہ معلومات فراہم نہیں کر سکے کہ ان کے پاس یہ رقم کیسے آئی۔ وہ ہانگ کانگ میں تمباکو کا کاروبار کرتے تھے تاہم وہ کاروبار کسی صورت کامیاب نہیں ہوا تھا۔

سرکاری وکیل کا دعویٰ تھا کہ اس سارے معاملے کا نتیجہ یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چینی خفیہ اداروں نے ان کو یہ رقم دی تھی جس کے بدلے ان سے خفیہ معلومات حاصل کی گئیں۔

سرکاری وکلا کے مطابق حکومت کو یقین ہے کہ انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھی گئی معلومات اور ایک ڈرائیو میں موجود ڈیٹا چینی اہلکاروں کو دیا۔ ان معلومات میں ان آٹھ افراد کے نام بھی شامل تھے جس کے حوالے سے تمام معلومات پوشیدہ تھیں۔

ان کے مطابق ان افراد میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کی تربیت خود جیری چن شنگ لی نے کی تھی۔ انہوں نے 1994 سے 2007 کے درمیان سی آئی اے میں رہتے ہوئے ان افراد کو تیار کیا تھا۔

جیری چن شنگ لی کے حوالے سے سرکاری وکلا کا مزید کہنا تھا کہ چین کے خفیہ ادارے کے جو افراد ان سے ملے تھے انہوں نے جیری چن شنگ لی کو کم از کم 20 ایسے ٹاسک دیے تھے جن سے ان لوگوں کی تفصیلات حاصل ہو سکیں جن کی تربیت سی آئی اے نے کی تھی جبکہ چین کے خفیہ ادارے یہ جاننے کی بھی کوشش کر رہے تھے کہ یہ افراد کس طرح سی آئی اے کو معلومات پہنچاتے ہیں اور کیسے انہوں نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔

اس کیس کا فیصلہ ڈسٹرکٹ جج ٹی ایس ایلس نے سنایا۔ ان کے فیصلے کا جھکاؤ سرکاری وکلا کے دلائل کی جانب تھا۔

ڈسٹرکٹ جج کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں جیری چن شنگ لی نے جو رقم بینک میں جمع کروائی اس کا کچھ حصہ لازمی طور پر چین سے آیا تھا جبکہ انہوں نے بھی کچھ خفیہ معلومات ظاہر کیں۔

واضح رہے کہ جیری چن شنگ لی کے کیس کا موازنہ رواں برس کے آغاز میں کیے گئے ایک عدالتی فیصلے سے کیا جا رہا ہے۔ جس میں کیوین مالورے نامی سی آئی اے کے ایک جاسوس کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جن پر چین کو 25 ہزار ڈالرز کے عوض خفیہ معلومات فراہم کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔

جیری چن شنگ لی کیس میں حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سرکاری وکلا کا خیال ہے کہ جیری چن شنگ لی کو جس قدر بڑی رقم دی گئی ہے اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ان کی سرگرمیاں کیوین مالورے کے مقابلے میں زیادہ بڑی تھیں۔

دوسری جانب جیری چن شنگ لی کے وکیل کا موقف ہے کہ انہوں نے جو بھی معلومات دی ہیں وہ ‘خفیہ معلومات’ کے زمرے میں نہیں آتیں۔ جبکہ کیوین مالورے کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات انتہائی خفیہ تھیں۔

جیری چن شنگ لی نے اپنے کیے پر معافی بھی مانگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

جیری چن شنگ لی امریکی شہری ہیں وہ 15 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ہمراہ ہانگ کانگ سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔

Loading...

Comments are closed.