بغدادی کا کھوج لگانے والے کتے کا وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم

مزید خبریں

عراق کے ایک دور افتادہ علاقے میں روپوش دہشت گرد گروپ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو تلاش کرنے والے جاسوس کتے کو آج وائٹ ہاؤس میں لایا گیا جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا خیرمقدم کیا۔

کتے کا نام کانین ہے اور وہ امریکی فوج کی ’ ڈاگ سروس‘کے لیے کام کرتا ہے۔

وہ متعدد مہمات میں حصہ لے چکا ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا یہ کہ کانین ہے۔ غالباً یہ دنیا کا سب سے مشہور کتا ہے۔

اس موقع پر امریکہ کی خاتون اول میلائنا، نائب صدر مائیک پینس اور کتے کا نگہبان بھی موجود تھے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ کانین یہاں موجود ہے ۔ ہم نے اسے ایک سرٹیفکیٹ اور ایوارڈ دیا ہے۔

بغدادی نے عراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خلیفہ کا لقب اختیار کر کے اپنی حکومت قائم کی تھی، جس نے غیر مسلموں کے خلاف بطور خاص ظلم و بربریت کے پہاڑے توڑے۔ اس کا قبضہ ختم کرانے میں امریکی فورسز نے مقامی ملیشیاؤں کے ساتھ مل کر آپریشنز کیے اور جب اس کے اقتدار کا ختم ہوا تو وہ ایک دور افتادہ علاقے میں روپوش ہو گیا۔

امریکی ایجنسیوں نے اس کے ٹھکانے کا کھوج نکالنے کے بعد آپریشن شروع کیا۔ اس دوران بغدادی اپنا گھر چھوڑ کر ایک سرنگ میں چھپ گیا جہاں پر کانین نے اسے ڈھوند نکالا۔

بغدادی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے باردوی جیکٹ کا دھماکہ کر کے خود کو ہلاک کر دیا۔ اس دھماکے میں بغدادی کے ساتھ موجود دو بچے بھی ہلاک ہو گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں۔

نائب صدر پینس نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانین واقعی ایک ہیرو ہے۔ وہ اس کارروائی میں زخمی بھی ہوا لیکن اس نے اپنی ڈیوٹی نبھائی۔

Loading...

Comments are closed.